فوج کا آﺅٹ ریچ پروگرام :ریڈیو رابطہ سے لیکر خواتین کی با اختیاری تک

فوج کا آﺅٹ ریچ پروگرام :ریڈیو رابطہ سے لیکر خواتین کی با اختیاری تک

شوکت ساحل

سرینگر/ فوج نے عوام خاص طور پر نوجوانوں تک پہنچنے کے لئے ’آﺅٹ ریچ پروگرام ‘ شروع کیا ہے ،جس کے تحت’90.8کمیو نٹی ریڈ یو اسٹیشن ‘ دل سے دل تک قائم کرنے سے لیکر خواتین کی با اختیاری کو یقینی بنایا جارہا ہے ۔ فوج کے اعلیٰ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ فوج ،انتظامیہ اور دیگرپولیس فورسز کے آﺅٹ ریچ پروگرام سے کشمیر میں’ ملی ٹنٹ ریکروٹمنٹ ‘میں کمی آئے گی ۔

کمیو نٹی ریڈ یو اسٹیشن

کمیو نٹی ریڈ یو اسٹیشن

جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں کشمیر کے پہلے ’90.8کمیونٹی ریڈیو اسٹیشن (سی آر ایس) ‘’ریڈیو رابطہ‘(دل سے دل تک ) کے کامیاب آغاز کے بعد فوج اپنے ’ آﺅٹ ریچ پروگرام‘ کے تحت وادی میں مزید3 ایسے اسٹیشن قائم کرنے جارہی ہے۔فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ ریڈیو رابطہ کے بارے میں مقامی لوگوں کی جانب سے مثبت ردعمل کے بعد جنوبی اور شمالی کشمیر کے اضلاع میں اس طرح کے 3 مزید’ سی آر ایس‘ قائم کئے جائیں گے۔

فوجی افسر کے مطابق ایک ’کمیو نٹی ریڈیو اسٹیشن ‘(سی آر ایس) شو پیان میں قائم کیا جائے گا ، جبکہ 2 دیگر شمالی کشمیر کے اضلاع میں قائم کئے جارہے ہیں۔ یہ اسٹیشنز ایک اچھا نیٹ ورک ہوگا اور یہ پلیٹ فارم تفریحی مقاصد اور مقامی شکایات کو دور کرنے کے لئے استعمال ہوگا۔

ستمبر2020 میں نوجوانوں تک پہنچنے کے لئے فوج نے جنوبی ضلع اننت ناگ کے ہائی گراﺅنڈ میں اپنا پہلا ’سی آر ایس‘ شروع کیا۔ ریڈیو اسٹیشن کے اسٹوڈیو (نشر نگار )کو ایک گیریرسن کے اندر رکھا گیا ہے۔ اس کا افتتاح فوج کی15ویں کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل بی ایس راجو نے کیا تھا۔

فوج کے افسر نے بتایا کہ ریڈیو رابطہ (90.8ایف ایم ) (دل سے دل تک ) صرف اننت ناگ قصبہ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ اسٹیشن25کلو میٹر پر محیط ہے اور پلوامہ ،کولگام کے ملحقہ علاقوں میں بھی لوگ اس کو سنتے ہیں ۔اس وقت سی آر ایس کی میزبانی ریڈیو کے 2 نوجوان ’جوکیز‘ عمر نثار اور عائشہ گوہر کررہے ہیں۔ اس اسٹیشن پر پہلا شو یکم جنوری 2021 کو نئے سال کے دن پر نشر کیا گیا تھا۔

مختلف پروگراموں کے میزبان عمر نثار نے بتایا ’ اس وقت پلیٹ فارم پر تین پروگرا م براہ راست نشر ہورہے ہیں۔ ان میں سے دو پرائم ٹائم شو صبح و شام کی شفٹوں میں نشر ہوتے ہیں جبکہ دوسرا دوپہر کے وقت نشر ہوتا ہے۔‘ ان کا کہناتھا ’ہمیں زیادہ تر مقامی مسائل سے متعلق کالز موصول ہوتی ہیں جن میں سڑکوں کی عدم فراہمی ، بجلی کی قلت ، ٹریفک جام وغیرہ شامل ہیں۔ یہ مقامی نوجوانوں کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم کی حیثیت سے کام کر رہا ہے‘۔

صبح9بجے سے لیکر11 بجے تک ’دل سے دل تک ‘ کے پروگرام کی میزبانی کرنے والے عمر کہتے ہیں کہ وہ اسٹوڈیو سے آن لائن جانے کے علاوہ اسٹوڈیو کے باہر بھی پروگرام نشر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا ، یہاں تک کہ ہم نے گلمرگ سے ونٹر فیسٹیول کو براہ راست کو نشر کیا۔

دوپہر کے پروگرام کی میزبانی کرنے والی عائشہ گوہر نے بتایا کہ وہ زیادہ تر فیشن کے رجحانات ، بالی ووڈ کی خبروں ، آئی پی ایل اور سوشل میڈیا کے رجحانات کے بارے میں بات کرتی ہیں۔انہوں نے کہا ’ہم مقامی نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں‘۔

نوجوان کلب

ہائی گراﺅنڈ اننت ناگ میں چنار نوجوان کلب بھی قائم کیا گیا ہے ۔یہاں منشیات کے عادی نوجوانوں کی کونسلنگ کی جاتی ہے اور اُنہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جارہا ہے ۔کلب کے منیجر مزمل احمد کہتے ہیں کہ یہاں نوجوانوں کو کھیل کود میں اپنی صلاحیتوں کے جو ہر دکھا نے کے لئے پلیٹ فارم مہیا کیا جارہا ہے ۔اُنہیں مختلف کھیلوں میں بنیادی تربیت دی جاتی ہے ،تاکہ وہ ملکی وبین الا قوامی کھیل مقابلوں میں ملک کی نمائندگی کریں ۔ان کا کہناتھا ’ اس کلب کامیابی یہ ہے کہ ہم نے مارشل آرٹ میں بچوں کو تربیت دی ،ہمارے کلب کے دو نوجوان کھلاڑیوں نے سو نے تمغے حاصل کئے ‘۔

سپر ۔30پروگرام

سپر ۔30پروگرام

جموں وکشمیر کے طلاب کو فوج ’سپر۔30پروگرام ‘ کے تحت مفت کوچنگ کی سہولیت دے رہی ہے ۔ کوچنگ کے دوران طلبہ کو’نیٹ ‘ کے مسابقتی امتحانات کے لئے تیار کیا جاتا ہے ۔یہ پروگرام 15مارچ 2018کو شروع کیا گیا ،جس کے تحت ایم بی بی ایس اور نیٹ امتحانات کے لئے غریب بچوںکو مفت کوچنگ دی جاتی ہے ۔ سرینگر میں قائم سپر۔30کوچنگ سینٹر کے منیجر ،ڈاکٹر روہت شری واستوا کہتے ہیں کہ مفت کوچنگ کے لئے جموں وکشمیر کے30طلبہ کو شفاف عمل اور میرٹ کی بنیاد میں منتخب کیا جاتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جو طلبہ میڈیکل اور انجینئرنگ امتحانات میں کامیابی کی خواہش رکھتے ہیں ،لیکن معاشی کمزوری کے سبب آگے نہیں بڑھ پاتے ہیں ، کو یہاں مفت کوچنگ دی جاتی ہے ۔ان کا کہناتھا کہ یہ12ماہ کوچنگ پروگرام ہے ،جس دوران طلبہ کو خاص طور پر طبیعیات ، کیمسٹری ، حیوانیات اور نباتیات مضامین میں روزانہ چھ گھنٹے کے کلاسز دئے جاتے ہیں ۔

ڈاکٹر روہت شری واستوا مزید کہا کہ پہلے بیچ میں 19طلاب ایم بی بی ایس ،بی ڈی ایس کے لئے منتخب ہوئے جبکہ دوسرے بیچ کے33طلاب میں سے 6ایم بی بی ایس ،7بی ڈی ایس ،2بی وی ایس سی ،5بی اے ایم ایس اور دیگر طلاب نے مختلف میڈیکل کالجوں میں داخلہ لیا ۔

یہ پروگرام’ نیشنل انٹر گریٹی اینڈ ایجو کیشن ڈیولپمنٹ آر گنائزیشن ‘ درس وتدریس اور فیکلٹی کی خدمات انجام دیتی ہے جبکہ فوج نگرانی اور بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے سہولیت فراہم کرتی ہے ۔ سرینگر سے تعلق رکھنے والے طالب علم عارف احمد بٹ کہتے ہیں کہ اس طرح کی کوچنگ اگرنجی سطح پر لی جائے تو لاکھوں روپے خرچ ہوں گے جبکہ میرے والدین اتنی بڑی رقم برداشت نہیں کرسکتے ہیں ،یہاں مجھے مفت کوچنگ مل رہی ہے ۔

اننت ناگ سے تعلق رکھنے والے طالب علم ساحل اعجاز نے بتایا کہ جموں وکشمیرکے دور دراز علاقوں سے آنے والے طلباءاس مرکز میں کوچنگ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ یہاں فراہم کردہ تعلیم کا معیار بہت اچھا ہے۔
سپر۔30کے ایک اور طالب علم جگبیر سنگھ کہتے ہیں کہ یہ ایک سال کا کوچنگ پروگرام ہے ،تحریر اور انٹرویو کی بنیاد پر طلاب کا انتخاب عمل میں لایا جاتا ہے ۔اگر ہم امتحان کے لئے نجی کوچنگ کا انتخاب کرتے تو پھر ہمیں سفر اور رہائش جیسے اخراجات کے علاوہ تقریباً2سے 3لاکھ روپے ادا کرنے پڑیں گے۔‘

وومن ایمپا ورمنٹ سینٹر

وومن ایمپا ورمنٹ سینٹر

وسطی ضلع بڈگام کے شریف آباد علاقے میں ’وومن ایمپا ور منٹ ‘ (خواتین کی با اختیاری ) پروگرام کے تحت ایک سلائی سینٹر قائم کیا گیا ہے ۔سلائی سینٹر میں کام کرنے والی ساجرا کہتی ہیں کہ وہ یہاں 7سے8ہزار تک ماہانہ کمالیتے ہیں ۔ان کا کہناتھا اس سینٹر میں اُنہیں سلائی ،کڑائی اور دیگر ہنر کی تربیت دی جاتی ہے ۔

ایک خاتون شفیقہ کہتی ہیں کہ اس سینٹر میں اُنہیں گھریلو صنعت سے متعلق تربیت دی جاتی ہے ،یہاں تربیت حاصل کرنے کے بعد ہم اپنا روزگاری یونٹ گھر بیٹھے کھول سکتے ہیں ،بیشتر خواتین یہاں سے فارغ ہو کر اپنا کاروبار کررہی ہیں ۔بلقس کہتی ہیں ’ یہ سینٹر ہمارے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہورہا ہے ۔یہاں خام مال سے لیکر کام کرنے کے لئے شال ،سوٹ اور دیگر چیزیں فراہم کی جاتی ہیں ۔ہم باختیار بن رہی ہیں ۔یہاں میں اس وقت چار سے پانچ ہزار روپے کما رہی ہوں ۔‘

سینٹر کی سربراہ انجلی رانا کہتی ہیں ’ اب تک 50سے زیادہ خواتین ہنر کی تربیت حاصل کر چکی ہیں جبکہ اس وقت سینٹر میں 30سے زیادہ خواتین تربیت حاصل کررہی ہیں ‘۔ان کا کہناتھا ‘ہمارا مقصد خواتین کی با اختیاری کو یقینی بنانا ہے ‘۔انہوں نے کہا کہ یہ سینٹر گزشتہ برسوں سے خواتین کی با اختیاری کے حوالے سے کام کررہا ہے ۔یہاں40 سلائی مشینیں نصب کی گئی ہیں۔ان کا کہناتھا کہ خواتین کی جانب سے تیار کردہ مصنوعات کو مختلف بازاروں میں فروخت کیا جاتا ہے ،ہم اس کو مزید اپ گریڈ کررہے ہیں ۔

ہنر سے روزگار تک

ہنر سے روزگار تک

فوج کے تعاﺅن سے فورڈ کرافٹ انسٹی چیوٹ ،جموں کی جانب سے سونتی پورہ کرالہ پورہ کپوارہ میں ایک ’اسکل ڈیولپمنٹ انسٹی چیوٹ ‘ قائم کیا گیا ہے ۔اس انسٹی چیوٹ میں خواہشمند طلاب کو ’شارٹ ٹرم اسکل ڈیولپمنٹ کورسز ‘ کرائے جاتے ہیں ۔یہ پروگرام مرکزی وزارت ِ سیاحت کے ذریعے انجام دیا جارہا ہے ۔

یہاں نوجوانوں کو جو ’شارٹ ٹرم کورسز ‘ کرائے جاتے ہیں جن میں ’ملٹی کوزین کُک،ایف اینڈ بی سروس اسٹوارڈ ، روم اٹنڈنٹ (ہاﺅس کیپنگ )،فرنٹ ہاﺅس ایسو سیٹ ،ٹور گائیڈ وغیرہ شامل ہے ۔ان کورس کے لئے کم سے کم 18سال کی عمر کی حد مقرر کی گئی ہے ۔اس کے علاوہ اس انسٹی چیوٹ میں انٹر پروینورشپ پروگرام کے تحت بھی کورسز کرائے جاتے ہیں ۔

چنار نوجوان کلب بارہمولہ

چنار نوجوان کلب بارہمولہ

شمالی ضلع بارہمولہ میں بھی ایک نوجوان کلب قائم کیا گیا ہے ،یہ یوتھ کلب اسکل ڈیولپمنٹ پر مشتمل ہے ۔اپریل 2016سے لیکر جنوری 2021تک یہاں سے3ہزار595نوجوان مختلف شعبوں میں کورسز کرنے کے بعد فارغ ہوچکے ہیں ۔ان میں1939لڑے اور1656لڑکیاں شامل ہیں ۔

نوجوان کلب سے نوجوانوں نے ’ہاسپلٹی ،فیشن ڈیزائنگ ،انگلش اسپیکنگ ،کمپیوٹر ہارڈ ویئر،بیسک کمپیوٹر ،موبائیل مرمت ،سلپ ہیلپ گروپ ،آرٹ اینڈ کلچر وغیر شامل ہیں ۔فارغ ہونے والے نوجوانوں میں 655نوجوان روزگار سے ہمکنار ہوچکے ہیں ،جن میں 343لڑکے اور312لڑکیاں شامل ہیں ۔کلب میں جم اورمیوزک اینڈ آرٹ وغیر ہ کی سہولیت دستیاب ہے ۔یہاں پریوار اسکول اور اسپیشل بچوں کے لئے اسپیشل اسکول بھی قائم کیا گیاہے ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.