جاب پلیسمنٹ میں تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں کے لیے 70 فیصد روزگار کی ضمانت، بہت جلد مزید پانچ اضلاع کو بھی شامل کیا جائے گا: نصرت پٹھان
سرینگر، 2 نومبر: ایچ ڈی ایف سی بینک کے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) پلیٹ فارم ’پریورتن‘ کے تحت جموں و کشمیر میں اب تک 18,706 افراد کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بینک کی جانب سے اس پروگرام کے ذریعے دیہی ترقی، تعلیم، ہنرمندی، روزگار، صحت و صفائی، مالیاتی خواندگی اور قدرتی وسائل کے تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں کام کیا جا رہا ہے۔
ایچ ڈی ایف سی بینک کی سربراہ برائے سی ایس آر نصرت پٹھان نے پیر کو سرینگر میں منعقدہ پریس بریفنگ کے دوران پروگرام کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بینک سال 2014 سے جموں و کشمیر میں مختلف ترقیاتی سرگرمیوں میں مصروف ہے اور اب تک 20 میں سے 15 اضلاع میں اپنے منصوبوں کو وسعت دے چکا ہے۔ ان میں خواہش مند اضلاع کپواڑہ اور بارہمولہ بھی شامل ہیں، جبکہ ان دونوں اضلاع کے 16 سرحدی دیہات میں بھی مختلف ترقیاتی سرگرمیاں انجام دی جا رہی ہیں۔
پریس بریفنگ کے دوران سوال و جواب کے سیشن میں نصرت پٹھان نے بتایا کہ ہنرمندی اور روزگار سے متعلق پروگراموں کے تحت تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں کے لیے 70 فیصد جاب پلیسمنٹ کی ضمانت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ بہت جلد مزید پانچ اضلاع کو بھی اس پروگرام کے دائرے میں شامل کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تربیت اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ بینک نے منصوبوں کی شفافیت، جوابدہی اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اپنا مانیٹرنگ اور تحقیق پر مبنی نظام قائم کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ منصوبوں کی نگرانی تھرڈ پارٹی کے ذریعے بھی کی جاتی ہے، جبکہ پروگراموں کی پیش رفت اور متعلقہ معلومات ایچ ڈی ایف سی بینک کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہیں۔
نصرت پٹھان نے کہا کہ پریورتن پروگرام کے تحت ہر علاقے کی مقامی ضروریات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبے تیار کیے جاتے ہیں، کیونکہ ہر علاقے کے مسائل اور ترقیاتی تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔
15 اضلاع میں ترقیاتی سرگرمیاں
بینک کے مطابق جموں و کشمیر میں پریورتن پروگرام بارہمولہ، بڈگام، ڈوڈہ، گاندربل، جموں، کٹھوعہ، کشتواڑ، کپواڑہ، پلوامہ، راجوری، رام بن، ریاسی، سانبہ، سرینگر اور ادھم پور میں جاری ہے۔
اس پروگرام کے تحت دو طرح کی مداخلتیں کی جاتی ہیں۔ پہلی ہولسٹک رورل ڈیولپمنٹ پروگرام ہے، جس میں دیہی ترقی کے مختلف شعبوں کو یکجا کرکے کام کیا جاتا ہے، جبکہ دوسری فوکسڈ ڈیولپمنٹ پروگرام ہے، جس کے تحت کسی مخصوص علاقے میں ایک یا دو اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔
زراعت اور دیہی معیشت کو مضبوط بنانے کے اقدامات
ایچ ڈی ایف سی بینک کے مطابق دیہی ترقی کے شعبے میں اب تک 10,128 کسانوں کو مختلف سہولیات اور پروگراموں کے ذریعے مستفید کیا گیا ہے۔ ان اقدامات میں کسانوں کی تنظیم سازی، تربیت، مشترکہ زرعی مشینری تک رسائی، زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور شمسی توانائی سے چلنے والے بنیادی ڈھانچے کی فراہمی شامل ہے۔
پامپور میں زعفران کی کاشت کرنے والے کسانوں کو شمسی توانائی سے چلنے والے واٹر پمپ اور ڈرائر فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (FPOs) کی تشکیل اور مارکیٹ تک رسائی میں بھی مدد دی جا رہی ہے، تاکہ زعفران کی کاشت اور فصل کی کٹائی کے بعد اس کی بہتر دیکھ بھال اور مارکیٹنگ کو فروغ دیا جا سکے۔
اسی طرح سیب اور اخروٹ کی پروسیسنگ کے لیے سولر ڈرائر، گریڈنگ اور سارٹنگ لائنز سمیت دیگر مشینری فراہم کی گئی ہے، جس سے کسانوں کو اپنی پیداوار محفوظ رکھنے، اس کی قدر میں اضافہ کرنے اور خام پیداوار کے بجائے تیار شدہ مصنوعات کی مارکیٹنگ کے مواقع حاصل ہو رہے ہیں۔
اوڑی میں کشمیری سرخ مرچ کی کاشت کو فروغ دینے کے لیے کسانوں کو پولی ہاؤس فارمنگ، ڈرپ اریگیشن اور سولر ڈرائر جیسی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد سرحدی علاقوں میں زرعی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔
اس کے علاوہ ’سمارکش‘ (SAMARKASH) کے نام سے ایک مشترکہ برانڈ بھی قائم کیا گیا ہے، جس کے ذریعے مختلف فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز اپنی تیار شدہ زرعی مصنوعات کی اجتماعی طور پر مارکیٹنگ کرتی ہیں۔ اس سلسلے میں برانڈنگ، پیکیجنگ اور مارکیٹ لنکیجز کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
تعلیم اور ہنرمندی کے شعبے میں نمایاں پیش رفت
تعلیم کے شعبے میں ای سی ایس ایس (ECSS) کے تحت 901 اسکالرشپس فراہم کی گئی ہیں، جبکہ 60 اسمارٹ اسکول قائم کیے گئے ہیں۔ ڈیجیٹل کلاس رومز، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (ICT) اور تعلیمی بنیادی ڈھانچے میں بہتری کے ذریعے تقریباً 15,000 طلبہ مستفید ہوئے ہیں۔
ہنرمندی اور روزگار کے شعبے میں اب تک 1,057 نوجوانوں اور افراد کو تربیت فراہم کی گئی ہے، جبکہ 189 خواتین کو بھی مختلف معاشی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع سے منسلک کرنے میں مدد دی گئی ہے۔
ان پروگراموں میں پیشہ ورانہ تربیت، کاروباری صلاحیتوں کا فروغ، خواتین کی معاشی خودمختاری اور روایتی دستکاری و ہنرمندی سے وابستہ شعبوں کو مضبوط بنانا شامل ہے۔
صحت، صفائی اور قدرتی وسائل کا تحفظ
صحت و صفائی کے شعبے میں پسماندہ اور ضرورت مند طبقوں تک بنیادی طبی سہولیات، آگاہی اور دیگر ضروری خدمات کی رسائی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اربن لوکل باڈی کے لیے ویسٹ مینجمنٹ سسٹم بھی قائم کیا گیا ہے۔
قدرتی وسائل کے انتظام اور صاف توانائی کے فروغ کے تحت 104 دیہات کو شمسی توانائی سے متعلق سہولیات اور کمیونٹی لائٹنگ جیسے منصوبوں کے ذریعے فائدہ پہنچایا گیا ہے، جس سے توانائی کی دستیابی اور مقامی سطح پر بنیادی سہولیات میں بہتری آئی ہے۔
مالیاتی خواندگی اور سائبر فراڈ سے متعلق آگاہی
مالیاتی خواندگی اور مالیاتی شمولیت کے شعبے میں بینک کی جانب سے ’وِجل آنٹی‘ (Vigil Aunty) سمیت مختلف مالیاتی فراڈ سے متعلق آگاہی مہمات چلائی جا رہی ہیں۔ ان مہمات کے ذریعے جموں و کشمیر میں 1.72 لاکھ سے زائد افراد تک رسائی حاصل کی گئی ہے، تاکہ لوگوں کو ڈیجیٹل اور روایتی بینکاری خدمات کے محفوظ استعمال اور مالیاتی دھوکہ دہی سے بچاؤ کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔
نصرت پٹھان کا اظہار خیال
ایچ ڈی ایف سی بینک کی سربراہ برائے سی ایس آر نصرت پٹھان نے کہا کہ بینک کا ماننا ہے کہ سماجی ذمہ داری کے تحت کیے جانے والے اقدامات ہر علاقے کی مخصوص ضروریات کے مطابق ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں کسانوں کو پائیدار زراعت کی جانب راغب کرنے، تعلیم، ہنرمندی اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے مقامی ضروریات کے مطابق منصوبے نافذ کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بینک زمینی سطح پر جامع ترقی اور دیرپا مثبت تبدیلی لانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
ایچ ڈی ایف سی بینک کے برانچ بینکنگ ہیڈ دنیش لوتھرا نے کہا کہ بینک جموں و کشمیر کے تمام علاقوں میں جامع بینکاری خدمات فراہم کرنے اور انہیں ہر طبقے تک قابل رسائی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سماجی طور پر ذمہ دار ادارے کی حیثیت سے بینک افراد اور خاندانوں کی زندگیوں میں بامعنی تبدیلی لانے پر بھی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
ملک بھر میں 10.77 کروڑ سے زائد افراد مستفید
ایچ ڈی ایف سی بینک مارچ 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران ملک کے نمایاں سی ایس آر اخراجات کرنے والے اداروں میں شامل رہا۔ 31 مارچ 2026 تک بینک نے ملک بھر میں سی ایس آر سرگرمیوں پر 1,316 کروڑ روپے خرچ کیے، جبکہ پریورتن پروگرام کے ذریعے ملک بھر میں 10.77 کروڑ سے زائد افراد کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب کیے گئے ہیں۔
بینک کے مطابق جموں و کشمیر میں پریورتن پروگرام کا بنیادی مقصد دیہی معیشت کو مضبوط بنانا، تعلیمی سہولیات میں بہتری، نوجوانوں کی روزگار کے لیے استعداد بڑھانا، خواتین کی معاشی شرکت کو فروغ دینا، ضروری خدمات تک عوام کی رسائی بہتر بنانا اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کو یقینی بنانا ہے۔




