ہفتہ, اکتوبر 31, 2026
20 C
Srinagar

کابینہ میں ردوبدل کے علاوہ، نیشنل کانفرنس کے ارکانِ اسمبلی کا ریاستی درجے کی بحالی، دفعہ 370 اور 2024 کے انتخابی منشور پر مقررہ مدت میں عمل درآمد کے لیے جدوجہد تیز کرنے کا مطالبہ

نیشنل کانفرنس کی اعلیٰ قیادت کو مطالبات پر مشتمل میمورنڈم ارسال

سری نگر: نیشنل کانفرنس (این سی) کے وہ ارکانِ اسمبلی، جو منگل کے روز کابینہ میں ردوبدل اور توسیع کے معاملے پر پارٹی قیادت کے خلاف ناراض ہیں، نے مطالبات پر مشتمل ایک میمورنڈم تیار کیا ہے۔ ان مطالبات میں کابینہ میں ردوبدل، ریاستی درجے اور دفعہ 370 کی بحالی کے لیے کوششیں تیز کرنا اور پارٹی کے 2024 کے انتخابی منشور پر مقررہ مدت کے اندر عمل درآمد شامل ہیں۔

 ذرائع نے بتایا کہ یہ میمورنڈم پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی رہائش گاہوں پر بھیجا گیا ہے۔ تاہم، نیشنل کانفرنس نے ابھی تک میمورنڈم موصول ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

ذرائع کے مطابق، یہ میمورنڈم جمعہ کی دوپہر حلقہ انتخاب لولاب سے نیشنل کانفرنس کے رکنِ اسمبلی قیصر جمشید لون کی رہائش گاہ پر منعقدہ 18 ارکانِ اسمبلی کی میٹنگ کے دوران تیار کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ارکانِ اسمبلی نے پارٹی کے انتخابی منشور پر مقررہ مدت کے اندر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

میمورنڈم میں جموں و کشمیر کے ریاستی درجے اور دفعہ 370 کی بحالی کے لیے سیاسی جدوجہد کو مزید تیز کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

ارکانِ اسمبلی نے مشیر ناصر اسلم وانی اور ان وزراء کو عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا ہے جنہیں وزارت میں دو سال مکمل ہو چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، پارٹی کے ارکانِ اسمبلی نے کابینہ کی جامع تنظیمِ نو اور داچھی گام میں طے پانے والے اتفاقِ رائے پر عمل درآمد کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

واضح رہے کہ 3 جون کو داچھی گام میں وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی صدارت میں منعقدہ ایک میٹنگ کے دوران پارٹی کے ارکانِ اسمبلی نے نائب وزیرِ اعلیٰ سریندر چودھری اور وزراء جاوید رانا اور ستیش شرما کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے تھے۔

اگرچہ حالیہ کابینہ ردوبدل کے دوران ستیش شرما کو وزارت سے ہٹا دیا گیا، تاہم جاوید رانا سے کئی اہم محکمے واپس لے کر ان کے اختیارات محدود کر دیے گئے۔ اس کے باوجود نائب وزیرِ اعلیٰ نے محکمہ تعمیراتِ عامہ (آر اینڈ بی) اور محکمہ صنعت و حرفت اپنے پاس برقرار رکھے۔

اس گروپ میں شامل ایک رکنِ اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ انہیں 25 سے زائد ارکانِ اسمبلی کی حمایت حاصل ہے اور ان کا واحد مقصد نیشنل کانفرنس میں اصلاحات لانا ہے۔

انہوں نے کہا:’’ہم ہی نیشنل کانفرنس ہیں اور گزشتہ 30 برسوں سے ہم نے پارٹی کے لیے اپنا خون پسینہ ایک کیا ہے۔ ہم چند لوگوں کو پارٹی پر قبضہ کرنے یا اسے ایک کارپوریٹ ادارے میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘

ایک اور رکنِ اسمبلی نے الزام لگایا کہ داچھی گام کی میٹنگ کے دوران شدید تنقید کا سامنا کرنے والے وزیر اہم محکمے اپنے پاس برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔

کے این او

Popular Categories

spot_imgspot_img