سرینگر،: جموں و کشمیر پولیس نے جمعہ کے روز بتایا کہ انہوں نے ایک ایسے نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا ہے جو مبینہ طور پر مختلف جیلوں میں بند دہشت گردوں سے منسلک تھا اور جو مرکز کے زیر انتظام علاقے میں دہشت گردی کی مالی معاونت میں ملوث تھا۔ اس معاملے میں 10 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
جاری کردہ ایک بیان میں پولیس ترجمان نے بتایا کہ شوپیان پولیس نے دہشت گردانہ سرگرمیوں سے منسلک مشتبہ مالیاتی نیٹ ورکس کی گہرائی سے تحقیقات کے بعد اس نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے دوران مختلف ادائیگی کے پلیٹ فارمز کے ذریعے کی جانے والی مشتبہ آن لائن مالیاتی لین دین کا تجزیہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں رقم کی منتقلی کے کئی مراحل اور ذرائع کا سراغ لگایا گیا۔ تحقیقات سے افراد کے ایک وسیع نیٹ ورک کا انکشاف ہوا، جو مبینہ طور پر دہشت گردی کی مالی معاونت میں ملوث تھے اور مختلف جیلوں میں بند دہشت گردوں اور ان کے ساتھیوں سے رابطے رکھتے تھے۔
ترجمان نے کہا، ’’اب تک اس معاملے کے سلسلے میں 10 مبینہ دہشت گرد معاونین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس تھانہ شوپیان میں قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر نمبر 231/2026 درج کی گئی ہے۔‘‘
پولیس ترجمان کے مطابق گرفتار افراد کی شناخت اویس شفیع نائیکو ولد محمد شفیع نائیکو ساکن سید پورہ بالا، شوپیاں؛ تجمل احمد شاہ ولد عبدالرشید شاہ ساکن راولپورہ، شوپیاں، معیز اقبال ولد محمد اقبال حجام ساکن چھتراگام کلان؛ اماد یوسف گنائی ولد محمد یوسف گنائی ساکن چھتراگام کلان؛ ثاقب ظہور وانی ولد ظہور احمد وانی ساکن مرن، پلوامہ؛ عامر احمد گنائی ولد غلام نبی گنائی ساکن ارمولہ، پلوامہ؛ فردوس ٹھوکر ولد غلام قادر ٹھوکر ساکن نادی گنڈ، ترنز؛ لیاقت نذیر لون ولد نذیر احمد لون ساکن مرن، پلوامہ؛ محمد حنیف ولد کاجو شیرو ساکن چیک ہریا، کٹھوعہ اور کاجو ولد حاجی شیرو ساکن چیک ہریا کٹھوعہ کے طور پر ہوئی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان عام لوگوں سے خفیہ طور پر رقم جمع کر رہے تھے اور اسے پہلے سے قائم مالیاتی روابط کے ذریعے آگے منتقل کر رہے تھے تاکہ لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) اور دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
بیان کے مطابق مبینہ طور پر ان رقوم کا استعمال دہشت گردانہ سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لیے لاجسٹک معاونت فراہم کرنے، بشمول اسمارٹ فونز کی فراہمی، میں بھی کیا جا رہا تھا۔
پولیس نے کہا کہ اس نیٹ ورک کے وسیع دائرہ کار کا پتہ لگانے، مزید مالیاتی روابط قائم کرنے اور اس ماڈیول میں ملوث دیگر افراد کی شناخت کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔ اس معاملے میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
بیان کے مطابق یہ کارروائی جموں و کشمیر پولیس کے دیگر سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کی معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کو ختم کرنے، غیر قانونی مالیاتی ذرائع کو روکنے اور پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں امن و سلامتی برقرار رکھنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔




