جمعرات, اکتوبر 29, 2026
17.8 C
Srinagar

دربار مئو  کے پیشِ نظر 31 اکتوبر اور یکم نومبر کے لیے خصوصی ٹریفک پلان جاری: ڈی آئی جی ٹریفک کشمیر

جموں سے سرینگر کی جانب بھاری گاڑیوں کی آمدورفت پر پابندی ہوگی، پھلوں سے لدے ٹرکوں کو ترجیح دی جائے گی

سرینگر: ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ٹریفک کشمیر، حسیب الرحمٰن نے جمعرات کو کہا کہ دربار مئو  کے سلسلے میں 31 اکتوبر اور یکم نومبر کو جموں سے سرینگر کی جانب بھاری گاڑیوں کی آمدورفت کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ پھلوں سے لدے ٹرکوں کو ترجیح دی جائے گی۔

سرینگر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے حسیب الرحمٰن نے کہا کہ دربارمئو کے قافلے کی آمدورفت کے لیے خصوصی ٹریفک پلان ترتیب دیا گیا ہے، جس کے تحت دربار مئو کی گاڑیوں کو ترجیح دی جائے گی۔

انہوں نے کہا، ’’ہم نے پھلوں سے لدے ٹرکوں کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ اگر سڑک بند ہو جاتی ہے تو ان ٹرکوں کو اگلی قطار میں کھڑا کیا جاتا ہے تاکہ انہیں ترجیحی بنیادوں پر جموں کی جانب روانہ کیا جا سکے۔‘‘

حسیب الرحمٰن نے کہا کہ اب تک ٹریفک کی نقل و حرکت معمول کے مطابق اور ہموار رہی ہے اور کسی بڑے مسئلے کی اطلاع نہیں ملی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آنے والے دنوں میں موسم خراب ہوتا ہے تو محکمہ پھلوں سے لدے ٹرکوں کو ترجیح دینے کی کوشش کرے گا۔

انہوں نے مسافروں کو مشورہ دیا کہ وہ پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے جاری کیے جانے والے ٹریفک ایڈوائزری پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی موجودہ صورتحال سے متعلق معلومات ٹریفک کنٹرول یونٹ کے ہیلپ لائن نمبر 103 پر کال کرکے بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔

سرینگر-جموں قومی شاہراہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی نے کہا کہ موسم سازگار رہنے کی صورت میں ٹریفک کی آمدورفت ہموار رہے گی، تاہم بارش یا برف باری کے باعث ٹریفک کی نقل و حرکت متاثر ہو سکتی ہے۔

سرینگر شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک جام کے حوالے سے حسیب الرحمٰن نے کہا کہ گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ٹریفک کی بھیڑ کی ایک بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پارکنگ کی سہولیات اور سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مجوزہ منصوبوں میں بٹہ مالو سے بمنہ اور ڈل گیٹ سے پاندچھ تک فلائی اوورز کی تعمیر کے علاوہ بائی پاس پر دو نئے فلائی اوورز کی تعمیر بھی شامل ہے۔

ڈی آئی جی نے کہا کہ سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے سے ٹریفک کی آمدورفت میں بہتری آئے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی خدشات یا مشتبہ گاڑیوں کے بارے میں معلومات ملنے پر بعض اوقات سڑکوں پر بیریکیڈز نصب کیے جاتے ہیں، تاہم ٹریفک کو بلاوجہ نہیں روکا جاتا۔

کے این او

Popular Categories

spot_imgspot_img