سرینگر، 27 اکتوبر: عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت میں کابینہ کی توسیع کے بعد نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنماؤں مبارک گل اور عبدالمجید لاروی نے وزارت نہ ملنے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ مبارک گل نے کہا کہ انہیں پہلے بھی نظرانداز کیا گیا اور آج بھی کابینہ سے باہر رکھا گیا، جبکہ لاروی کا کہنا ہے کہ وہ پیر کی شام تک وزارت کے ممکنہ امیدواروں کی فہرست میں شامل تھے۔ تاہم، مایوسی کے باوجود لاروی نے پارٹی سے اپنی وفاداری برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔
نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت میں کابینہ کی توسیع کے بعد پارٹی کے دو سینئر رہنماؤں، مبارک گل اور عبدالمجید لاروی، کی ناراضگی سامنے آئی ہے۔ دونوں رہنما منگل کو لوک بھون، سرینگر میں منعقدہ حلف برداری کی تقریب کے دوران وزارت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے، جس کے بعد انہوں نے اپنے ردعمل میں مایوسی کا اظہار کیا۔
لوک بھون کے باہر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مبارک گل نے کہا کہ وہ اب تک حلف برداری کی 30 تقریبات میں شرکت کر چکے ہیں، لیکن انہیں ہر مرتبہ وزارت سے محروم رکھا گیا۔انہوں نے کہا، ’’میں اب تک حلف برداری کی 30 تقریبات میں شرکت کر چکا ہوں۔ ہر مرتبہ مجھے باہر رکھا گیا اور آج بھی مجھے باہر ہی رکھا گیا ہے۔‘‘ ان کے بیان سے کابینہ میں شامل نہ کیے جانے پر ان کی مایوسی واضح ہوئی۔
دوسری جانب، اننت ناگ ویسٹ کے رکن اسمبلی عبدالمجید لاروی نے بھی وزارت نہ ملنے پر دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیر کی شام تک وزارت کے ممکنہ امیدواروں کی فہرست میں شامل تھے اور انہیں امید تھی کہ کابینہ میں جگہ ملے گی۔
لاروی نے کہا، ’’میرا دل ٹوٹ گیا ہے۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ وزارت کے مستحق تھے۔ انہوں نے کہا: ’’میں اس کا مستحق تھا۔ میں دو مرتبہ کہتا ہوں کہ میں مستحق تھا۔‘‘
تاہم، لاروی نے یہ بھی کہا کہ وہ پارٹی قیادت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں، لیکن وزارت نہ ملنے سے انہیں اندرونی طور پر تکلیف پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم انسان ہیں، ہمارا بھی دل ہے۔ ہمارا دل اداس ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ میں آپ سے اس طرح بات کر رہا ہوں، لیکن اندر سے میرا دل جل رہا ہے۔‘‘
مایوسی کے باوجود لاروی نے نیشنل کانفرنس سے اپنی وابستگی برقرار رکھنے کا اعلان کیا اور خود کو پارٹی کا سپاہی قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’میں پارٹی کا سپاہی ہوں۔ پارٹی کے لیے کہیں بھی جا سکتا ہوں۔‘‘
ان دونوں رہنماؤں کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت میں چار نئے وزراء، علی محمد ساگر، شمیمہ فردوس، میر سیف اللہ اور الطاف احمد وانی المعروف الطاف کلو، نے منگل کو لوک بھون میں عہدے اور رازداری کا حلف اٹھایا۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نئے وزراء کو حلف دلایا۔
کابینہ کی توسیع کے بعد مبارک گل اور عبدالمجید لاروی کی ناراضگی نے پارٹی کے اندر وزارتوں کی تقسیم اور رہنماؤں کی توقعات سے متعلق بحث کو نمایاں کیا ہے۔ تاہم، دونوں رہنماؤں کے بیانات کی روشنی میں پارٹی کے مستقبل کے لائحۂ عمل یا ان کی جانب سے کسی ممکنہ اقدام کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
کابینہ میں نئے وزراء کی شمولیت کے ساتھ اب توجہ اس بات پر بھی رہے گی کہ نیشنل کانفرنس اپنی قیادت اور سینئر رہنماؤں کی توقعات کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتی ہے، جبکہ حکومت کی کارکردگی اور عوامی مسائل کا حل اس کی ترجیحات میں برقرار رہتا ہے۔





