جموں، 10 ستمبر: حکام نے جمعرات کو بتایا کہ نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) نے منشیات کی اسمگلنگ کے مقدمے میں ملزم عاقب بشیر کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے، جو تین روز قبل جموں میں ایجنسی کی تحویل سے فرار ہوگیا تھا۔
این سی بی کے ترجمان کے مطابق، ضلع پلوامہ کے کاکاپورہ کا رہائشی عاقب بشیر کو این سی بی، جموں و کشمیر پولیس اور پنجاب پولیس پر مشتمل مشترکہ کارروائی کے دوران پنجاب کے جالندھر سے گرفتار کیا گیا۔
عاقب بشیر 6 اور 7 ستمبر کی درمیانی شب جموں کے نروال علاقے میں این سی بی کی تحویل سے فرار ہوگیا تھا، جس کے بعد پورے خطے میں مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ طور پر بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کی تھی۔
این سی بی نے اسے اس سے قبل 3 ستمبر کو گرفتار کیا تھا۔ ایجنسی نے سانبا کے نئے بس اڈے پر جموں جانے والی ایک مسافر بس کو روک کر تلاشی لی تھی، جس کے دوران 522 گرام ہیروئن برآمد کی گئی تھی۔
بعد ازاں تحقیقات کے دوران این سی بی نے منشیات کی مذکورہ کھیپ کے پنجاب سے منسلک پسِ پردہ نیٹ ورک کا سراغ لگایا، جہاں ایک مزید کارروائی کے دوران 197 گرام ہیروئن برآمد کی گئی۔ اس طرح منسلک برآمد شدہ منشیات کی مجموعی مقدار 719 گرام ہوگئی۔
یہ گرفتاری این سی بی کی جانب سے ایک ماہ تک جاری رہنے والی کارروائی کا حصہ تھی، جس کے دوران جموں و کشمیر میں ہیروئن پہنچانے کے لیے استعمال کیے جانے والے دو مشتبہ راستوں کی نشاندہی کی گئی۔ ان میں ایک راستہ اوڑی سیکٹر کے ذریعے براہِ راست پاکستان سے جبکہ دوسرا پنجاب کے راستے جموں و کشمیر تک پہنچتا تھا۔
این سی بی نے اس سے قبل نروال میں اپنی تحویل سے عاقب بشیر کے فرار ہونے کے حالات کا تعین کرنے کے لیے محکمانہ داخلی تحقیقات بھی شروع کی تھیں۔
حکام کے مطابق منشیات کے مذکورہ نیٹ ورک اور عاقب بشیر کے فرار ہونے کے حالات سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔
[کے این ٹی]





