سری نگر، 9 ستمبر: جموں و کشمیر میں نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) کے تحت کام کرنے والے ملازمین نے بدھ کے روز طویل عرصے سے زیرِ التوا مطالبات، جن میں جامع ملازمت پالیسی، تنخواہوں میں نظرثانی، سماجی تحفظ اور ریٹائرمنٹ فوائد شامل ہیں، کے حق میں 72 گھنٹے کی ہڑتال شروع کردی۔
این ایچ ایم ملازمین کی یوٹی سطح کی جوائنٹ کوآرڈی نیشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال کے تحت اضلاع، بلاکس اور فیلڈ سطح پر کام کرنے والے ملازمین ہڑتال میں شامل ہیں۔ ان میں نیشنل ٹی بی ایلیمینیشن پروگرام اور این ایچ ایم کی دیگر اسکیموں سے وابستہ ملازمین بھی شامل ہیں۔
ملازمین کی ایسوسی ایشن کے مطابق 5 ستمبر کو انتظامیہ کو دی گئی مہلت کسی ٹھوس جواب یا عملی اقدام کے بغیر ختم ہونے کے بعد جموں و کشمیر بھر میں یہ ہڑتال کی جا رہی ہے۔
ملازمین کا مطالبہ ہے کہ انہیں ملازمت کا تحفظ فراہم کرنے والی پالیسی نافذ کی جائے، تنخواہوں میں نظرثانی کی جائے، ریٹائرمنٹ اور سماجی تحفظ کے فوائد فراہم کیے جائیں، ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ (EPF) کی کوریج میں توسیع کی جائے، تنخواہوں میں مساوات اور دیگر سروس سے متعلق فوائد دیے جائیں۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں 12 ہزار سے زائد این ایچ ایم ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔
یہ ہڑتال اسی نوعیت کے مطالبات پر اپریل میں جموں و کشمیر بھر میں کی گئی 48 گھنٹے کی ہڑتال کے بعد سامنے آئی ہے۔ یہ احتجاج 2 اپریل کو وزیرِ صحت سکینہ ایتو سے ملازمین کے نمائندوں کی ملاقات کے بعد ختم کیا گیا تھا۔ اس وقت حکومت نے ملازمین کو یقین دلایا تھا کہ ان کے مسائل کا جائزہ لے کر انہیں حل کیا جائے گا۔
تازہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب 17 مارچ کو مرکزی وزارتِ صحت نے راجیہ سبھا میں جموں و کشمیر کے این ایچ ایم ملازمین کی مستقلی سے متعلق ایک سوال کا جواب دیا تھا۔ رکن پارلیمنٹ سجاد احمد کچلو کے سوال کے جواب میں وزارت نے کہا تھا کہ صحتِ عامہ اور اسپتال ریاستی موضوعات ہیں، جبکہ این ایچ ایم کے انسانی وسائل سے متعلق پالیسی، بشمول تنخواہوں میں مساوات، مستقلی اور مستقل سروس میں جذب کیے جانے کے معاملات متعلقہ ریاست یا مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی حکومتیں طے کرتی ہیں۔
پارلیمانی جواب میں مزید کہا گیا تھا کہ مرکزی حکومت این ایچ ایم کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو ضرورت کی بنیاد پر تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کرتی ہے، جبکہ متعلقہ انتظامیہ صحت کے شعبے کے لیے انسانی وسائل کی فراہمی اور مقررہ معیارات کے مطابق مستقل اسامیاں پیدا کرنے کی ذمہ دار ہے۔
احتجاج کرنے والے ملازمین نے بتایا کہ وہ تقریباً 18 برس سے این ایچ ایم کے تحت خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم اب تک انہیں جامع مستقلی یا ملازمت کے تحفظ کی پالیسی فراہم نہیں کی گئی۔ ملازمین کی ایسوسی ایشن نے جنوری میں بھی یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ 12 ہزار سے زائد ملازمین مستقلی، سروس فوائد اور سماجی تحفظ کی ضمانتوں سے محروم ہیں۔
دریں اثنا، این ایچ ایم ملازمین کی ایک الگ تنظیم نے بھی حکومت کو نئی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر 17 ستمبر تک ان کے مطالبات حل نہ کیے گئے تو 18 ستمبر سے پورے یوٹی میں دوبارہ ہڑتال شروع کی جائے گی۔
یوں موجودہ 72 گھنٹے کی ہڑتال گزشتہ احتجاج کے پانچ ماہ بعد ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب جموں و کشمیر میں این ایچ ایم ملازمین کی ملازمت کی حیثیت، معاوضے اور سماجی تحفظ سے متعلق پالیسی فیصلے کے مطالبات بدستور برقرار ہیں۔ (کے این ٹی)





