جمعرات, ستمبر 3, 2026
25.2 C
Srinagar

وادی کشمیر میں نجی اسکولوں کی من مانیاں عروج پر

15 روز کے لیے بس تبدیل کرنے پر 800 روپے اضافی چارج،والدین میں تشویش

ایشین میل نیوزڈیسک
سری نگر: وادی کشمیر میں نجی اسکولوں کی جانب سے مختلف مدات میں اضافی چارجز وصول کیے جانے کی شکایات کے درمیان ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں صرف15 روز کے لیے اسکول بس تبدیل کرنے پر والدین سے 800 روپے اضافی وصول کیے گئے۔ان دنوں وادی کشمیر میں شادیوں کا سیزن جاری ہے اور بڑی تعداد میں خاندان اپنے قریبی رشتہ داروں کی شادی کی تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں۔والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہو اور وہ شادی کی تقریبات میں بھی شرکت کر سکیں، اس مقصد کے لیے وہ نجی اسکول انتظامیہ سے عارضی بنیادوں پر بس ٹرانسپورٹ سہولت تبدیل کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔
والدین کے مطابق سری نگر کے مضافات میں واقع ایک معروف نجی اسکول کی انتظامیہ سے بھی ایک طالب علم کے لیے صرف پندرہ دن کی عارضی بس تبدیلی کی درخواست کی گئی، تاہم اس کے عوض اسکول انتظامیہ نے800 روپے اضافی چارجز وصول کر لیے۔والدین نے اس عمل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بس روٹ میں مستقل تبدیلی کی جائے تو اضافی اخراجات کی کوئی وجہ سمجھ میں آتی ہے، تاہم محض پندرہ دن کے لیے عارضی تبدیلی پر 800 روپے وصول کرنا بلاجواز اور من مانی ہے۔
والدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف تعلیمی ادارے تعلیم کو عام کرنے اور بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے دعوے کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب والدین سے مختلف مدات میں اضافی رقم وصول کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا۔ کشمیر میں نجی اسکولوں کی جانب سے ٹرانسپورٹ فیس وصول کرنے کے حوالے سے والدین کی بار بار شکایات ماضی میں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
والدین نے متعلقہ محکمہ تعلیم اور دیگر حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نجی اسکولوں کی جانب سے عائد کیے جانے والے ایسے اضافی چارجز کا نوٹس لیا جائے اور عارضی بنیادوں پر بس تبدیل کرنے کے لیے بھاری اضافی رقم وصول کرنے کے عمل کو ضابطے میں لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ والدین پہلے ہی بھاری اسکول فیس اور ٹرانسپورٹ اخراجات برداشت کر رہے ہیں، ایسے میں معمولی سہولت کے نام پر اضافی رقم وصول کرنا کسی صورت مناسب نہیں۔

Popular Categories

spot_imgspot_img