اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق بدھ کی صبح سرکاری ہسپتال پمز کی گائینی وارڈ میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں 14 کے قریب نومولود بچے جھلس گئے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انڈپینڈنٹ اردو کو موصول ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ آگ پمز ہسپتال کی ایم سی ایچ وارڈ کی تیسری منزل پر لگی۔
انہوں نے بتایا کہ ’اس وارڈ میں لگے اے سی میں دھماکہ ہوا اور وہاں موجود آکسیجن میں آگ لگ گئی جو نارمل سے بہت زیادہ تیزی سے پھیلی۔‘انہوں نے تصدیق کی کہ اس واقعے میں 14 بچوں کی موت ہوئی ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے واقعے میں 14 نومولود بچوں کی موت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’بچوں کے ساتھ ایسی صورت حال ناقابلِ تلافی ہے۔ واقعہ کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور ذمہ داران کا تعین کر کے سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔‘
اس حوالے سے وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں انہوں نے متعلقہ افسران پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر معطل کر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ کے مطابق مرنے والے بچوں میں سے نو کی لاشیں ان کے لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔تاہم بعض والدین نے بغیر ڈی این اے ٹیسٹ لاشیں وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا ہے کہ آتشزدگی کے وقت ہسپتال اہلکاروں میں سے ’کوئی بھی وہاں موجود نہیں تھا۔‘
ایک متاثرہ خاتون نے کہا کہ ’اس لمحے وہاں صرف وہ اور کچھ دیگر والدین ہی موجود تھی جبکہ نہ تو گائنی ڈاکٹر موجود تھیں اور نہ ہی نرسنگ سٹاف میں سے کوئی موجود تھا۔‘




