جمعہ, جولائی 31, 2026
25.6 C
Srinagar

بلاس پور جیل میں زیر سماعت قیدی کی موت: سپریم کورٹ نے ڈی جی پی اور داخلہ سکریٹری کو 4 اگست کو طلب کر لیا

بلاس پور: چھتیس گڑھ کے بلاس پور سینٹرل جیل میں ایک زیر سماعت قیدی کی حراست کے دوران موت کے معاملے میں سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے پولیس کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) اور داخلہ سکریٹری کو 4 اگست 2026 کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کرنے کو کہا ہے کہ حراستی موت کے معاملے میں اب تک ایف آئی آر درج کرنے اور فوجداری کارروائی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے 34 سالہ شروَن سوریہ ونشی کی موت کے معاملے میں ان کی اہلیہ لہرا بائی تمراکار اور دو کمسن بیٹیوں کی جانب سے دائر خصوصی اجازت عرضی (ایس ایل پی) پر سماعت کے دوران ریاستی حکومت کے حلف نامے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

عدالت نے کہا کہ حلف نامے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حراستی موت کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کرنے یا فوجداری تفتیش شروع کرنے کے لیے کیا کارروائی کی گئی۔ درخواست کے مطابق شروَن سوریہ ونشی کو 18 جنوری 2024 کو سیپت پولیس نے چھ لیٹر کچی مہوا شراب رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور بعد میں بلاس پور سینٹرل جیل بھیج دیا گیا۔ 21 جنوری کو طبیعت بگڑنے پر انہیں سمس اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں 22 جنوری کو علاج کے دوران ان کی موت ہوگئی۔

چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی ہدایت پر ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 176 کے تحت عدالتی جانچ کرائی گئی، جس کی 22 جولائی 2024 کو پیش کی گئی رپورٹ میں سر پر شدید چوٹ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو موت کی وجہ قرار دیا گیا۔ اس کے بعد اہل خانہ نے متعلقہ پولیس اور جیل حکام کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور 50 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔

اس سے قبل چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے 3 اکتوبر 2024 کو خاندان کو ایک لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم دیا تھا، جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ایک لاکھ روپے کے معاوضے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ خاندان کو پہنچنے والے نقصان کے مقابلے میں یہ رقم انتہائی کم ہے، اور ریاستی حکومت سے حراستی موت کے معاملے میں کی گئی قانونی اور فوجداری کارروائیوں کی مکمل تفصیلات طلب کیں۔

Popular Categories

spot_imgspot_img