سرینگر: میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ میں بھدرواہ سے موصول ہونے والی ان اطلاعات پر شدید رنجیدہ اور مضطرب ہوں جن کے مطابق 30 سالہ نوجوان شہری عارف حسین کو ایس او جی اہلکاروں نے ہلاک کر دیا، جس کے بعد اس واقعے کے خلاف مقامی لوگوں نے احتجاج کیا اور پورے ضلع میں انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی گئیں۔
اس المناک سانحے پر میری دلی ہمدردیاں اور دعائیں مرحوم کے سوگوار اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں، خصوصاً ان کی جواں سال حاملہ اہلیہ کے ساتھ، جنہوں نے اپنے شوہر کے اس بہیمانہ قتل کے خلاف ہونے والے احتجاج میں بھی شرکت کی۔
اس نوعیت کے واقعات، جن میں حال ہی میں گاندربل میں راشد احمد مغل کا قتل بھی شامل ہے، انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور قانون کی حکمرانی کے تمام اصولوں کے منافی ہیں۔ ایسے واقعات عوام کے دلوں میں خوف اور بے اعتمادی کو مزید گہرا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکام کو چاہیے کہ وہ اس واقعے کی فوری، غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائیں، ذمہ داروں کی نشاندہی کریں، تحقیقاتی نتائج عوام کے سامنے لائیں اور اس گھناو ¿نے جرم میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دیں۔





