کشتواڑ، 18 جولائی: بھدرواہ کے جئے علاقے میں نوجوان عارف حسین کی ہلاکت کے خلاف مرکزی جامع مسجد کشتواڑ کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال پر ہفتہ کے روز ضلع کشتواڑ میں مکمل بند رہا، جس کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔
ہڑتال کے دوران ضلع کے مختلف علاقوں میں بازار، تجارتی مراکز، تعلیمی ادارے اور ٹرانسپورٹ خدمات بند رہیں، جبکہ عوامی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
یہ ہڑتال مرکزی جامع مسجد کشتواڑ کے امام کی اپیل پر کی گئی، جنہوں نے عوام سے مرحوم عارف حسین اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے پرامن بند منانے کی درخواست کی تھی۔
گزشتہ روز جمعہ کے خطبات میں مذہبی رہنماؤں نے عوام پر زور دیا تھا کہ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن کو برقرار رکھیں اور کسی بھی ایسی سرگرمی سے گریز کریں جو امن و امان میں خلل یا کشیدگی کا باعث بنے۔
یہ بند بھدرواہ واقعے کے بعد بڑھتی ہوئی عوامی تشویش کے درمیان منایا گیا، جس میں عارف حسین سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ایک کارروائی کے دوران جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری مؤقف کے مطابق نوجوان اس وقت مارا گیا جب اس نے مبینہ طور پر ایک سکیورٹی اہلکار کی رائفل چھیننے کی کوشش کی۔ تاہم، اہلِ خانہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ عارف حسین کو جان بوجھ کر قتل کیا گیا اور انہوں نے واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
حکام نے کشتواڑ بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے تاکہ ہڑتال پرامن انداز میں اختتام پذیر ہو اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ [کے این ٹی]





