سرینگر، : پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نئی دہلی میں مجوزہ جنتر منتر احتجاج میں اسی صورت شریک ہوگی جب یہ تحریک صرف ریاستی درجے (اسٹیٹ ہڈ) کی بحالی تک محدود نہ رہے بلکہ آرٹیکل 370 کی بحالی، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جموں و کشمیر کے دیگر آئینی تحفظات کی بحالی کا بھی مطالبہ کرے۔
ہفتہ کے روز نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو لکھے گئے ایک خط میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ پی ڈی پی نے احتجاج میں شرکت کی دعوت پر غور کیا ہے، تاہم ان کا ماننا ہے کہ اگر مہم کو صرف ریاستی درجے کی بحالی تک محدود رکھا گیا تو یہ جموں و کشمیر کو درپیش بڑے سیاسی مسائل کا احاطہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے واقعات نے جموں و کشمیر اور بھارتی یونین کے درمیان آئینی تعلق کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا، اس لیے ریاستی درجے کی بحالی ایک وسیع تر سیاسی حل کا صرف ایک حصہ ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کی آئینی شناخت کے خاتمے نے عوام میں وسیع پیمانے پر سیاسی بیگانگی پیدا کی ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ خطے کے وقار، حقوق اور جمہوری تحفظات کی بحالی کے لیے متحدہ کوششیں ضروری ہیں۔ ان کے مطابق آرٹیکل 370 کی بحالی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کسی بھی مشترکہ سیاسی تحریک کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ تمام علاقائی سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی تنظیموں، تجارتی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں پر مشتمل ایک آل پارٹی اجلاس طلب کریں تاکہ جموں و کشمیر میں آئینی اور جمہوری حقوق کی بحالی کے لیے مشترکہ لائحۂ عمل تیار کیا جا سکے۔
2019 کے بعد کی سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے الزام عائد کیا کہ من مانی گرفتاریاں، سرکاری ملازمین کی برطرفیاں، میڈیا پر پابندیاں، تعلیمی اداروں کی بندش اور ماحولیاتی نقصان نے عوامی بے چینی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تحریک صرف ریاستی درجے کی بحالی تک محدود رہی تو یہ ان بڑے مسائل کو نظر انداز کر دے گی۔
مجوزہ جنتر منتر احتجاج کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پی ڈی پی اسی صورت احتجاج میں شریک ہوگی جب مہم کا مرکز آرٹیکل 370 کی بحالی، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جموں و کشمیر کے عوام کی وسیع تر سیاسی امنگوں سے متعلق مطالبات ہوں گے۔ [کے این ٹی]





