منگل, جولائی 14, 2026
18.9 C
Srinagar

یومِ شہداء یا یومِ فتنہ؟

وادیٔ کشمیر میں ہر سال 1931 سے لے کر آج تک13 جولائی کو ہر سال یومِ شہداء کے بطور سیاسی جماعتیں مناتی آئی ہیں اور ان سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ13 جولائی1931 کو سرینگر کے سنٹرل جیل کے باہر مہاراجہ کی فوج نے22 نہتے کشمیریوں کو ایک ایک کر کے گولیوں سے بھون ڈالا، جب وہ، بقول ان لیڈران کے، ایک افغان شہری عبدالقدیر خان کے کیس سے متعلق ہو رہی سماعت سننے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں کشمیری لوگ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی سیاسی قیادت کے حکم پر یہاں سرینگر کے سنٹرل جیل کے باہر جمع ہو گئے تھے۔عارف جمال نامی ایک مصنف نے اپنی کتاب (Shadow War)کے صفحہ نمبر 29 سے 32 پر تحریر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سنٹرل جیل سرینگر کے پیش آئے واقعے کے دوران اگرچہ ہزاروں کی بھیڑ سیاسی لیڈران کے کہنے پر جمع ہو گئی تھی تاکہ عبدالقدیر خان کو کسی قسم کی سزا نہ سنائی جائے، جنہوں نے مہاراجہ کشمیر اور اُس کے نظامِ حکومت کے خلاف ریڈنگ روم لیڈر شپ کی جانب سے بلائے گئے عوامی اجلاس کے دوران خانقاہِ معلیٰ میں زبردست مخالف تقریر کی تھی۔
بہرحال، بھیڑ نے سنٹرل جیل کے سامنے نہ صرف موجود پولیس رکاوٹوں کو توڑ ڈالا تھا بلکہ مشتعل لوگوں نے سنٹرل جیل کی کئی بیرکوں کو جلایا اور سنٹرل جیل کو جانے والی ٹیلی فون لائنیں تک کاٹ دیں اور اپنے دفاع کے دوران وہاں موجود ڈوگرہ فوج نے گولی چلائی۔ اس کے بعد مہاراج گنج بازار میں کئی ہندوؤں کی دکانوں کو لوٹ لیا گیا اور تین ہندوؤں کو مارا گیا، جبکہ163 کو زخمی بھی کیا گیا تھا۔ مذکورہ مصنف نے یہاں تک اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اس واقعے کے بعد دریائے جہلم کے اوپر تعمیر شدہ پل کو بھی جلا دیا گیا۔بہرحال، ڈوگرہ راج کے خاتمے کے بعد جموں و کشمیر میں جمہوری نظام قائم ہوا اور مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے ہندوستان میں موجود انڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ ہاتھ ملا کر یہاں مسندِ اقتدار سنبھالی اور تب سے اب تک نہ صرف جموں و کشمیر کے نقشبند صاحب زیارت کے صحن میں موجود یہاں کی جملہ سیاسی قیادت ان شہداء کو یاد کرنے کی غرض سے یہاں ہر سال 13جولائی کو حاضری دیتی ہے اور بقول سیاسی لیڈران کے، ان شہداء کو یاد کرتی ہے اور اُن کی فاتحہ خوانی کرتی ہے بلکہ اس روز عام سرکاری چھٹی بھی ہوتی تھی اور سرکاری سطح پر یہ دن منایا جاتا تھا، جسے2019 کے بعد مرکزی سرکار نے ختم کر دیا ہے۔
کچھ اور مصنفوں نے ان شہداء کے نام پر کتابیں بھی لکھی ہیں اور انہیں جموں و کشمیر کے عوام کو شخصی راج سے نجات دلانے کے لیے مسیحا قرار دیا ہے۔ اب عام لوگ کس بات کو تسلیم کریں اور کس کو نہیں، یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔ جہاں تک جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ کا تعلق ہے، یہ بڑے بڑے واقعات سے بھری پڑی ہے اور ان واقعات کے بارے میں بہت سارے لوگوں کی الگ الگ رائے ہے اور ہر کوئی ان واقعات کو اپنے اپنے طریقے سے پیش کرتا ہے۔ اکثر کشمیری پنڈت 13 جولائی 1931 کے ان واقعات کو ’بٹہ لوٹ‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔بہرحال، ہم جیسے عام لوگ دو سوچ کے سیاست دانوں کے نظریات میں پھنس کر صرف پریشان ہو رہے ہیں۔ آج کے دن شہر سرینگر کا نصف حصہ بند رہا اور ٹریفک جام ہر جانب دیکھنے کو ملا اور بچے، بزرگ، بیمار، مرد و خواتین گھنٹوں تک اس جام میں پھنسے رہے، جنہیں یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ آخر 13 جولائی کیا ہے، اس دن کیا ہوا تھا اور یہ دن منانے سے عام لوگوں کو کیا فائدہ ہے۔ اگر ہے تو مرکزی اور جموں و کشمیر کی سرکار عام لوگوں کو صاف صاف کیوں نہیں کہتی کہ یہ دن یومِ شہداء ہے یا یومِ فتنہ؟

Popular Categories

spot_imgspot_img