پیر, جولائی 13, 2026
28.4 C
Srinagar

قانونی نوٹس میرے لیے ’اعزاز‘، بی جے پی جواب دینے کے بجائے عدالتوں کی آڑ لے رہی ہے: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

سری نگر،: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے انہیں بھیجا گیا قانونی نوٹس ان کے لیے ’’باعثِ اعزاز‘‘ ہے، اور الزام عائد کیا کہ بی جے پی سیاسی جواب دینے کے بجائے عدالتوں کی آڑ لے رہی ہے۔

انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ نیشنل کانفرنس (این سی)  اور اس کی پارٹی قیادت کے خلاف مبینہ ہتک آمیز اور بے بنیاد الزامات عائد کرنے پر بی جے پی رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرے گی۔

نیشنل کانفرنس کے ہیڈکوارٹر نوائے صبح میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ قانونی نوٹس اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اب بھی ’’ایک ایسی سیاسی قوت ہیں جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’مجھے قانونی نوٹس کی الیکٹرانک کاپی موصول ہوئی ہے۔ میں اسے اپنے لیے بڑا اعزاز سمجھتا ہوں کیونکہ غالباً میں جموں و کشمیر کا واحد سیاست دان ہوں جسے بی جے پی کی جانب سے ایسا محبت نامہ ملا ہے۔ میں اسے عزت کی علامت سمجھتا ہوں کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ میں ایک ایسی سیاسی قوت ہوں جسے وہ نظرانداز نہیں کر سکتے۔‘‘

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے جان بوجھ کر اپنی بات ایک سیاسی پلیٹ فارم سے کہی تھی تاکہ بی جے پی اس کا سیاسی جواب دے، مگر ان کے بقول پارٹی نے عدالتوں کا راستہ اختیار کیا۔

انہوں نے کہا، ’’میں یہی بات اسمبلی کے اندر استحقاق کے تحت بھی کہہ سکتا تھا جہاں اسے اسمبلی سے باہر چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا، مگر میں نے ایسا نہیں کیا۔ میں نے یہ بات سیاسی اسٹیج سے کہی تاکہ بی جے پی سیاسی جواب دے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ سیاسی لڑائی عدالتوں کی آڑ میں لڑنا چاہتے ہیں اور سیاسی حساب چکانے کے لیے عدالتوں کا سہارا لے رہے ہیں۔‘‘

عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس بھی اب بی جے پی رہنماؤں کے خلاف قانونی راستہ اختیار کرے گی، جنہوں نے ان کے بقول پارٹی پر مسلسل بے بنیاد الزامات عائد کیے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’گزشتہ چند ماہ سے بی جے پی کے سینئر رہنما نیشنل کانفرنس اور اس کی قیادت کے خلاف بے بنیاد اور ہتک آمیز الزامات لگا رہے ہیں۔ اب تک ہم ان کا سیاسی جواب دیتے رہے، لیکن اب ہم ایک مخصوص بی جے پی رہنما اور چند دیگر کے خلاف قانونی نوٹس بھیجنے کا عمل شروع کریں گے۔ پھر دیکھتے ہیں یہ معاملہ کہاں تک جاتا ہے۔‘‘

دہلی کے جنتر منتر پر مجوزہ نیشنل کانفرنس احتجاج کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پارٹی کو ابھی دہلی پولیس سے اجازت کا انتظار ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ہمیں بتایا گیا ہے کہ اجازت کے عمل میں عموماً پانچ دن لگتے ہیں۔ ہم مسلسل رابطے میں ہیں اور توقع ہے کہ کل یا بدھ کی صبح تک دہلی پولیس کی جانب سے جواب موصول ہو جائے گا۔‘‘

13 جولائی کے موقع پر عائد پابندیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہیں اور دیگر این سی رہنماؤں کو مزارِ شہداء پر حاضری سے روکنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کے معمول کے حالات کے دعوے زمینی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔

انہوں نے کہا، ’’یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ 13 جولائی کو جن لوگوں نے برطانوی راج، شخصی حکمرانی اور جمہوریت کے لیے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، آج انہیں اس انداز میں یاد کیا جا رہا ہے۔ ہمیں مزارِ شہداء جانے سے روک کر ہماری نہیں بلکہ فیصلہ لینے والوں کی سبکی ہوئی ہے۔ ایک طرف ہمیں بتایا جاتا ہے کہ جموں و کشمیر میں سب کچھ معمول پر ہے، لیکن زمینی صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔‘‘

سکیورٹی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے عمر عبداللہ نے جاری شری امرناتھ جی یاترا کے انتظامات کا حوالہ دیا اور کہا کہ انہیں یاد نہیں کہ ماضی میں کبھی امرناتھ یاترا کے لیے قومی شاہراہ بند کی گئی ہو۔

انہوں نے کہا، ’’مجھے یاد نہیں کہ کبھی امرناتھ یاترا کے لیے قومی شاہراہ بند کرنی پڑی ہو۔ اس سال یاتریوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے شاہراہ بند کی گئی ہے۔ یہ سکیورٹی صورتحال کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں خود بھی موجودہ امن و امان پر مکمل یقین نہیں ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ نے نیشنل کانفرنس کے ایک چھوٹے سے وفد کو بھی مزارِ شہداء جانے کی اجازت نہیں دی۔

انہوں نے کہا، ’’ہم لاکھوں یا ہزاروں افراد کے ساتھ نہیں جا رہے تھے۔ ہماری تعداد زیادہ سے زیادہ 100 یا 150 افراد ہوتی۔ اگر وہ اتنے چھوٹے اجتماع سے بھی خوفزدہ ہیں تو اس سے ہماری نہیں بلکہ انہی کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔‘‘ — (کے این او)

Popular Categories

spot_imgspot_img