پیر, جولائی 13, 2026
28.4 C
Srinagar

13 جولائی کے موقع پر سخت سیکورٹی، کشمیری رہنماؤں کو مزارِ شہداء جانے سے روکا گیا

سرینگر،:13 جولائی کے موقع پر سرینگر کے نقشبند صاحبؒ میں واقع مزارِ شہداء پیر کے روز سیاسی رہنماؤں اور عوام کے لیے بند رہا، جبکہ انتظامیہ نے شہر کے مختلف علاقوں میں سخت سیکورٹی پابندیاں نافذ کر کے کسی بھی قسم کے اجتماع کو روکنے کے اقدامات کیے۔ متعدد مرکزی دھارے کے سیاسی رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ انہیں یا تو گھروں میں نظر بند رکھا گیا یا مزارِ شہداء تک پہنچنے سے روک دیا گیا۔

مزارِ شہداء اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی، خار دار تاروں کی رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں اور نقل و حرکت پر پابندیاں عائد تھیں، جس کے باعث سیاسی رہنما، پارٹی کارکن اور عام شہری شہداء کی قبروں پر گلپوشی یا فاتحہ خوانی نہ کر سکے۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ 13 جولائی کے شہداء کی قربانیوں کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان شہداء کی قربانیاں کشمیر کی تاریخ کا لازمی حصہ ہیں۔ محبوبہ مفتی نے ان شہداء کا موازنہ بھگت سنگھ، اشفاق اللہ خان، راج گرو اور سکھ دیو سے کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری پابندیوں کے باوجود کشمیری عوام انہیں ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ مزار تک رسائی نہ ملنے پر انہوں نے پارٹی کارکنوں کے ہمراہ سرینگر میں پی ڈی پی ہیڈکوارٹر پر گلپوشی کی، جہاں شہداء کی یاد میں بینرز اور پوسٹر بھی آویزاں کیے گئے تھے۔

پی ڈی پی رہنما التجا مفتی نے دعویٰ کیا کہ انہیں 13 جولائی کی تقریبات سے قبل ہی گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندیاں جموں و کشمیر میں معمول کے حالات کے دعوؤں کی نفی کرتی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیاسی مخالفین کو جب چاہا حراست میں لیا جاتا ہے۔

میرواعظ عمر فاروق نے بھی دعویٰ کیا کہ انہیں ایک مرتبہ پھر گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے اور مزارِ شہداء جانے والے تمام راستے سیل کر دیے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں انہوں نے 13 جولائی کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں انصاف، وقار اور انسانی حقوق کی جدوجہد کی بنیاد ہیں، اور جسمانی پابندیاں عوام کی اجتماعی یادداشت سے ان کی قربانیوں کو مٹا نہیں سکتیں۔

وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے کہا کہ انہوں نے صبح تقریباً ساڑھے چار بجے مزارِ شہداء جانے کی کوشش کی، مگر بھاری سیکورٹی اور سخت ناکہ بندی کے باعث انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کو ہر حال میں یاد رکھا جائے گا۔

سابق وزیر اور نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے بھی 13 جولائی کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں جمہوری حقوق اور شناخت کی جدوجہد میں ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گی۔ ادھر نیشنل کانفرنس نے الزام لگایا کہ علی محمد ساگر اور حلقہ حضرت بل کے رکن اسمبلی سلمان علی ساگر کو اتوار سے ہی گھر میں نظر بند رکھا گیا ہے۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات افراد کو محدود کر سکتے ہیں، مگر ان کے نظریات کو نہیں۔

پی ڈی پی رہنما زہیب یوسف میر نے بھی دعویٰ کیا کہ مزارِ شہداء کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کے بعد انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پابندیاں 13 جولائی کے شہداء کی قربانیوں کی اہمیت کو کم نہیں کر سکتیں۔

واضح رہے کہ 2019 کی آئینی تبدیلیوں سے قبل جموں و کشمیر میں 13 جولائی کو سرکاری طور پر یومِ شہداء منایا جاتا تھا۔ یہ دن 1931 میں سرینگر سینٹرل جیل کے باہر جاں بحق ہونے والے 22 افراد کی یاد میں منایا جاتا تھا۔ ریاست کی تنظیمِ نو کے بعد اس دن کی سرکاری تعطیل اور سرکاری تقریبات کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ [کے این ٹی]

Popular Categories

spot_imgspot_img