نئی دہلی،: قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے 1996 کے سرینگر ہجومی تشدد اور پولیس اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کے مقدمے میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چھ سینئر رہنماؤں کے خلاف چارج شیٹ دائر کر دی ہے، جن میں مرحوم سید علی شاہ گیلانی اور شبیر احمد شاہ بھی شامل ہیں۔
کشمیر نیوز آبزرور (کے این او) کو جاری کیے گئے این آئی اے کے بیان کے مطابق، چارج شیٹ میں شبیر احمد شاہ، مرحوم سید علی شاہ گیلانی، مرحوم عبدالغنی لون، مرحوم محمد یعقوب وکیل، جاوید احمد میر اور شکیل احمد بخشی کو نامزد کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق تمام ملزمان پر رنبیر پینل کوڈ، 1989 کی متعلقہ دفعات کے تحت مجرمانہ سازش، اقدامِ قتل، ہنگامہ آرائی، سرکاری ملازمین پر حملہ اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ، 1967 کی دفعہ 13 کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
این آئی اے نے بتایا کہ سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد یعقوب وکیل کے انتقال کے باعث ان کے خلاف کارروائی قانوناً ختم ہو چکی ہے، تاہم چارج شیٹ میں مبینہ مجرمانہ سازش اور غیر قانونی اجتماع کے مشترکہ مقصد میں ان کے کردار کو شواہد کے ساتھ درج کیا گیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق 17 جولائی 1996 کو سرینگر کے ناز کراسنگ پر مارے گئے عسکریت پسند ہلال احمد بیگ کے جنازے کے جلوس کے دوران مذکورہ رہنماؤں نے مبینہ طور پر ایک غیر قانونی اجتماع کی قیادت کی اور پولیس اہلکاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر تشدد پر اکسانے کا کردار ادا کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلح عسکریت پسند جنازے کے جلوس میں شامل تھے اور جلوس کے دوران پولیس اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ شدید سنگ باری کے باعث سرکاری گاڑیوں کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔
این آئی اے کے مطابق تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ حریت رہنماؤں نے مبینہ طور پر تشدد پر اکسانے کے ساتھ ساتھ بھارت مخالف، پاکستان نواز اور علیحدگی پسند نعرے لگوائے اور اپنی تقاریر میں مسلح جدوجہد کی حمایت کی۔
بیان کے مطابق تحقیقات سے یہ واضح ہوا کہ یہ تشدد ایک منظم اور پہلے سے طے شدہ مبینہ سازش کا حصہ تھا، جس کا مقصد جنازے کے جلوس کو علیحدگی پسند نظریات کے فروغ، حکومت ہند کے خلاف عوامی حمایت حاصل کرنے، عوامی بے چینی پیدا کرنے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف تشدد پر اکسانے اور جموں و کشمیر میں حریت کی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے استعمال کرنا تھا۔
این آئی اے کے مطابق واقعے کے روز ابتدائی ایف آئی آر پولیس اسٹیشن شیر گڑھی، سرینگر میں درج کی گئی تھی، جبکہ ایجنسی نے اپریل 2026 میں مقدمے کی تحقیقات اپنے ہاتھ میں لی تھیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ (KNO)





