بدھ, جولائی 8, 2026
28.9 C
Srinagar

شارجہ سے کراچی آنے والی کے ٹو ایئرویز کی کارگو پرواز لاپتہ: ’طیارہ آخری لمحات میں تیزی سے اوپر نیچے ہوتا رہا‘

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ شارجہ سے پاکستان آنے والا ایک کارگو طیارہ کراچی سے تقریباً 155 کلومیٹر دور لاپتہ ہو گیا جس کے بعد سرچ اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

اتھارٹی کے بیان کے مطابق کے ٹو ایئرویز کا ایک بوئنگ 737 کارگو طیارہ، جو شارجہ سے کراچی جا رہا تھا، نے رات 9 بجکر 18 منٹ (پاکستانی وقت) پر اپنی نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی۔پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق طیارے میں پانچ عملے کے ارکان سوار تھے۔

اتھارٹی کے مطابق کراچی ایریا کنٹرول سینٹر (اے سی سی) نے فوری طور پر طیارے کی رہنمائی شروع کی، تاہم 9 بجکر 21 منٹ پر ریڈار پر طیارے کو تیزی سے نیچے آتے اور اچانک سمت تبدیل کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

بیان کے مطابق اس کے بعد کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں طیارے سے ریڈار اور مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا۔

کے ٹو ایئرویز پاکستان کی ایک نجی فضائی کمپنی ہے جس کا صدر دفتر کراچی میں واقع ہے۔ یہ مئی 2018 میں پاکستان حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایئرلائن چارٹر لائسنس کے تحت قائم کی گئی تھی اور اس کے سربراہ طارق مجید راجہ ہیں۔

ایئرپورٹس ارٹھارٹی نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر کو فعال کر دیا گیا اور لاپتہ طیارے کی تلاش کے لیے مختلف اداروں کے تعاون سے سمندر میں مشترکہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔

اس حوالے سے پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ کے ٹو ایئرویز کے لاپتہ کارگو طیارے کے لیے جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن وسیع کر دیا گیا ہے اور پاکستانی بحریہ، فضائیہ اور دیگر ادارے بھی اس میں شامل ہو چکے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان بحریہ کا جہاز پی این ایس ذوالفقار متاثرہ علاقے کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پاکستانی فضائیہ کے اثاثے بھی تلاش اور امدادی کارروائیوں کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔

بیان کے مطابق پاکستانی بحریہ کا اے ٹی آر طیارہ تربت سے پرواز کر چکا ہے، جبکہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کا تجارتی جہاز لاہور بھی جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہا ہے۔

کے ٹو ایئرویز کی جانب سے جاری بیان کے مطابق لاپتہ طیارے میں سوار عملے کے پانچ ارکان میں پائلٹ ان کمانڈ محمد رضوان ادریس، فرسٹ آفیسر فیصل محمود، لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان، انجینیئر عارف صدیقی اور انجینیئر محمد حامد شامل ہیں۔

دوسری جانب پاکستان ایئر لائنز (پی آئی اے) نے ایک بیان میں کے ٹو ایئرویز کے کارگو طیارے کے بحیرہ عرب میں گرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

کے ٹو ایئرویز کی کارگو سروسز کا آغاز بوئنگ 737-400 ایس ایف طیارے سے کیا گیا، جو فضائی مال برداری کے شعبے میں لاگت کے اعتبار سے انتہائی مؤثر طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس طیارے کی خصوصی وزن برداری اور پرواز کی حدود ایسی ہیں، جو صارفین کے ایندھن سے متعلق اخراجات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

Popular Categories

spot_imgspot_img