پیر, جولائی 6, 2026
32.7 C
Srinagar

ترقی یافتہ جموں و کشمیر کے لیے خواتین کا بااختیار ہونا ناگزیر، خواتین کی ترقی ہی معاشرے کی ترقی ہے: ایل جی منوج سنہا

سرینگر:لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کے روز کہا کہ خواتین کی ترقی معاشرے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے اور ایک ترقی یافتہ جموں و کشمیر اسی وقت ممکن ہے جب خواتین بااختیار، معاشی طور پر خودمختار ہوں اور قیادت و فیصلہ سازی کے عمل میں بھرپور کردار ادا کریں۔

سرینگر میں فیلوز (جینڈر ایکویٹی ایڈووکیٹس) کی اعزازی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے اس اقدام کو جموں و کشمیر میں خواتین کو بااختیار بنانے کی جانب ایک "تاریخی اور انقلابی لمحہ” قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ خواتین نے ہمیشہ کشمیر کے سماجی ڈھانچے کے تحفظ میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے اور اس خطے کو ایسی عظیم خواتین کا شاندار ورثہ حاصل ہے جنہوں نے اپنی دانش، روحانیت اور سماجی اصلاحات کے ذریعے معاشرے کی تشکیل کی۔

منوج سنہا  نے کہا کہ وہ ایسے جموں و کشمیر کا خواب دیکھتے ہیں جہاں خواتین اسکولوں، صنعتوں، ادب، کاروبار، طرزِ حکمرانی اور عوامی پالیسی سازی میں قائدانہ کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا، "میں ایسے جموں و کشمیر کا تصور کرتا ہوں جہاں ہر بچی اس یقین کے ساتھ پروان چڑھے کہ اس کے خواب قیمتی ہیں، اس کی آواز اہمیت رکھتی ہے اور اس کے مستقبل کے لیے کوئی حد مقرر نہیں۔”

انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ 2029 کے بعد خواتین کی سیاسی نمائندگی میں نمایاں اضافہ ہوگا اور کہا کہ ملک میں انتخابی سیاست میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا، "گزشتہ چند برسوں کے دوران جموں و کشمیر میں خواتین کی مالی خودمختاری کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں حوصلہ، ممکن، رائز ٹوگیدر، امید، ڈی جی پی سخی، کرشی سخی اور دیگر کاروباری اسکیمیں شامل ہیں۔”

تعلیمی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ طالبات مسلسل طلبہ سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں اور جامعات میں تقریباً 70 سے 75 فیصد گولڈ میڈلز طالبات حاصل کر رہی ہیں۔

انہوں نے نوجوانوں اور مردوں پر بھی زور دیا کہ وہ خواتین کی قیادت کی بھرپور حمایت کریں، کیونکہ خواتین کو بااختیار بنانے کی ذمہ داری صرف خواتین پر عائد نہیں ہوتی۔

Popular Categories

spot_imgspot_img