جمعہ, جولائی 3, 2026
28.4 C
Srinagar

پنجاب حکومت کی مداخلت کے بعد مٹن کا بحران ختم، تاجروں نے ہڑتال واپس لے لی

باضابطہ احکامات کا انتظار، زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا

سری نگر،: کشمیر مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن (KMDA) نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ پنجاب حکومت کی مداخلت کے بعد مٹن تاجروں کی جاری ہڑتال ختم کر دی گئی ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق پنجاب حکومت نے پولیس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ مویشیوں سے لدے ٹرکوں کو ناکوں پر نہ روکا جائے۔

کشمیر نیوز آبزرور (کے این او) سے بات کرتے ہوئے کے ایم ڈی اے کے جنرل سیکریٹری معراج الدین نے کہا کہ انہیں اطلاع دی گئی ہے کہ پنجاب حکومت نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ مویشیوں کی گاڑیوں کی نقل و حرکت میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔

انہوں نے کہا، "ہڑتال ختم کر دی گئی ہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ پنجاب پولیس کو ہماری گاڑیوں کو ناکوں پر نہ روکنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ مویشی منڈیوں کو بھی سپلائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔”

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایسوسی ایشن ابھی باضابطہ تحریری احکامات کی منتظر ہے، جس کے بعد زمینی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

ان کے مطابق، "اب ہم باضابطہ احکامات کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ زمینی سطح پر صورتحال کس طرح آگے بڑھتی ہے اور آیا ہدایات پر مکمل طور پر عمل درآمد ہوتا ہے یا نہیں۔”

معراج الدین نے امید ظاہر کی کہ آئندہ چند دنوں میں پنجاب سے جموں و کشمیر کے لیے مویشیوں کی ترسیل معمول کے مطابق بحال ہو جائے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ کئی روز سے جاری ہڑتال کے باعث پنجاب سے جموں و کشمیر بھیڑوں کی ترسیل متاثر ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں وادی کشمیر میں بالخصوص شادیوں کے موجودہ سیزن کے دوران مٹن کی ممکنہ قلت کے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔

اس معاملے پر حکومتی سطح پر بھی مداخلت کی گئی تھی۔ اس سے قبل جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ انہوں نے اس مسئلے کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان کے ساتھ اٹھایا ہے اور جموں و کشمیر کے مویشی تاجروں کے خلاف کارروائی کو "غیر جواز” قرار دیا تھا۔ — (کے این او)

Popular Categories

spot_imgspot_img