داراحکومت کراکس سمیت ملک کے شمال میں زلزلے سے درجنوں عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں جس کے بعد زخمیوں کا علاج عارضی طبی مراکز میں کیا جا رہا ہے۔ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ سینکڑوں بین الاقوامی امدادی کارکن وینزویلا پہنچ چکے ہیں جبکہ مزید کی آمد متوقع ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق بدھ کے روز آنے والے پہلے زلزلے کی شدت 7.2 تھی اور اس کے چند ہی سیکنڈ بعد اس سے بھی زیادہ طاقتور 7.5 شدت کا دوسرا زلزلہ آیا۔
پہلا زلزلہ زمین کی سطح سے 20.3 کلومیٹر نیچے جبکہ دوسرا 10 کلومیٹر کی گہرائی میں آیا تھا۔ یہ پچھلی ایک صدی میں ملک میں آنے والے طاقتور ترین زلزلوں میں سے ایک تھا۔
حکام کے مطابق دارالحکومت کے شمال میں واقع ساحلی شہر لا گوائیرا سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ یہ ملک کی دو بڑی بندرگاہوں میں سے ایک اور ملک کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ بھی یہاں واقع ہے۔اب بھی بہت سے افراد لاپتہ ہیں اور خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
لا گوائیرا میں ناتاشا دیاز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی دو بیٹیاں، جن کی عمریں 22 اور 23 برس ہیں، ایک منہدم شاپنگ سینٹر کے ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔ وہ دونوں وہاں کام کرتی تھیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’وہ اپنے دوستوں کے ساتھ تھیں۔ میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ وہ مل جائیں۔ مجھے یقین اور امید ہے کہ وہ وہیں ہیں۔‘
وینزویلا کی قومی اسمبلی کے سربراہ ہورخے روڈریگز نے جمعے کو سرکاری ٹی وی پر بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 920 تک پہنچ چکی جبکہ کم از کم 172 افراد کے اب بھی ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ صرف لا گوائیرا میں ہی کم از کم 243 افراد کو ریسکیو کیا جا چکا۔
قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے جمعے کو ایک ٹی وی بریفنگ میں کہا کہ درجنوں افراد کو زندہ نکال لیا گیا، جو ’ہمارے لیے باعثِ خوشی ہے کہ وہ اپنے خاندان اور پیاروں سے دوبارہ مل سکے۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ابتدائی زلزلوں کے بعد سے 214 آفٹر شاکس آ چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے کئی ممالک نے تعاون کی پیشکش کی ہے، جن میں امریکہ کی جانب سے 15 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان بھی شامل ہے۔
ہورخے روڈریگز کے مطابق 250 عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں یا انھیں شدید نقصان پہنچا۔ ان میں سے بیشتر عمارتیں لا گوائیرا میں واقع تھیں جہاں بی بی سی نے ایک 10 منزلہ ہوٹل کے ملبے میں تبدیل ہونے کی ویڈیو کی تصدیق کی۔
وزیر داخلہ دیوسدادو کابیو کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کاراکس میں بھی کئی عمارتیں منہدم ہوئی ہیں جبکہ تروخیلو، یاراکوئے، کارابوبو، اراگوا اور میراندا کی ریاستیں بھی زلزلے سے متاثر ہوئی ہیں۔





