ریاستی درجے کی بحالی تصادم سے نہیں بلکہ اعتماد اور مذاکرات سے ممکن، لیفٹیننٹ گورنر کی مفاہمتی پہل قابلِ تحسین، اپنی پارٹی عام لوگوں کا پلیٹ فارم: بخاری

شوکت ساحل
سرینگر: جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے صدرسعید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) خاندانی سیاست پر قائم ’پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں‘ ہیں، جن کی کئی دہائیوں پر محیط سیاست اقتدار کے حصول، عوامی جذبات کے استحصال اور سیاسی مفادات کے گرد گھومتی رہی ہے۔ایشین میل ملٹی میڈیا کے ہفتہ وار پروگرام ’پوڈکاسٹ ٹاک‘میں مدیر اعلیٰ ، رشید راہل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں الطاف بخاری نے اپنی سیاسی زندگی،5 اگست 2019 کے بعد پیدا ہونے والے حالات، اپنی پارٹی کے قیام، دفعہ 370اور35 اے کی تنسیخ، ریاستی درجے کی بحالی، 2024 کے اسمبلی انتخابات، مرکز کے ساتھ روابط، نوجوانوں کے کردار اور جموں و کشمیر کے مستقبل پر تفصیل سے اظہارِ خیال کیا۔
سیاست میں آنے کی وجہ:اپنی سیاسی زندگی کے آغاز اور سیاست میں قدم رکھنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ ان کا تعلق کسی سیاسی خاندان سے نہیں ہے اور نہ ہی وہ سیاست کو خاندانی وراثت بنانے کے قائل ہیں۔ ان کے مطابق عوامی خدمت کا جذبہ ہی انہیں اس میدان میں لے کر آیا۔انہوں نے کہا:’میرے خاندان میں کوئی سیاست دان نہیں تھا اور نہ ہی آئندہ ہوگا۔ نہ میرا بچہ، نہ بہن اور نہ بھائی سیاست کو خاندانی پیشہ بنائیں گے۔ میرا تعلق اوڑی کے لائن آف کنٹرول سے متصل بجہامہ گاؤں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت کچھ عطا کیا، اس لیے میں نے سیاست کو اقتدار یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کی خدمت کے لیے اختیار کیا۔‘انہوں نے کہا کہ اپنے سیاسی سفر کے دوران انہوں نے کبھی رشوت یا بدعنوانی کا سہارا نہیں لیا اور ہمیشہ بلا تفریق عوام کی خدمت کو ترجیح دی۔انہوں نے مزید کہا:میں پاور کی سیاست کرنا نہیں چاہتا تھا اور نہ آج میرا مقصد اقتدار ہے۔ میرا یقین تھا اور آج بھی ہے کہ سیاست ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے ان لوگوں تک پہنچا جا سکتا ہے جو بے بس اور مجبور ہیں۔ میری سیاست کا مقصد صرف اور صرف عوامی خدمت ہے۔‘
5 اگست 2019 اور اپنی پارٹی کا قیام:ایک سوال کے جواب میں الطاف بخاری نے کہا کہ5 اگست 2019 کے بعد جموں و کشمیر میں پیدا ہونے والے غیر معمولی حالات نے ایک نئے سیاسی پلیٹ فارم کی ضرورت کو جنم دیا۔ ان کے مطابق اگر روایتی سیاسی جماعتیں اس وقت اپنی ذمہ داری ادا کرتیں تو شاید نئی جماعت بنانے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔انہوں نے کہا:’اس وقت لوگوں پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ سینکڑوں افراد جیلوں میں تھے، کاروبار بند تھا، ٹرانسپورٹ معطل تھی اور زندگی مفلوج ہو چکی تھی۔ ایسے وقت میں سیاسی قیادت کو عوام کے درمیان ہونا چاہیے تھا، لیکن لوگ خود کو تنہا محسوس کر رہے تھے۔‘الطاف بخاری نے کہا کہ وہ خود بھی خانہ نظر بند تھے، لیکن نظر بندی کو عوامی ذمہ داری سے فرار کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔انہوں نے کہا:’یہ انتظار کرنے کا وقت نہیں تھا کہ کب رہائی ملے گی۔ لوگ مصیبت میں تھے اور انہیں اس بھنور سے نکالنا ضروری تھا۔ جب کوئی آگے نہیں آیا تو ہم نے اپنی پارٹی قائم کی۔ یہ صرف سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ وقت کی مجبوری اور عوامی ضرورت تھی۔‘

این سی اور پی ڈی پی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں:اپنی پارٹی اور دیگر علاقائی جماعتوں کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے سعید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سیاست گزشتہ کئی دہائیوں سے اقتدار کے گرد گھومتی رہی ہے۔انہوں نے کہا:’سیب کا موازنہ سیب سے ہوتا ہے، آم یا انار سے نہیں۔ ہماری سیاست کا ان جماعتوں سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دونوں جماعتیں اقتدار پر مبنی سیاست کرتی رہی ہیں۔ لوگوں کو سچ بتانے کے بجائے جذبات سے کھیلنا، دہلی کو ڈرانا اور عوام کو خوف میں رکھ کر ووٹ حاصل کرنا ان کی سیاست کا حصہ رہا ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ یہ دونوں جماعتیں’پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں‘ ہیں،ایک نیشنل کانفرنس پرائیویٹ لمیٹڈ اوردوسری پی ڈی پی پرائیویٹ لمیٹڈہے ۔ان کا کہناتھا :’ ان میں قیادت اور فیصلے محدود خاندانوں کے گرد گھومتے ہیں، جبکہ اپنی پارٹی عام کارکنوں اور نوجوانوں کے لیے کھلا پلیٹ فارم ہے۔انہوں نے کہا:’ہم نے آغاز ہی سے فیصلہ کیا کہ دہلی میں بھی سچ بولیں گے اور سرینگر میں بھی وہی بات کریں گے۔ عوام سے جھوٹے وعدے کرنا ہماری سیاست نہیں۔ جو ممکن ہوگا وہ کہیں گے اور جو ممکن نہیں ہوگا اس کی بھی حقیقت عوام کے سامنے رکھیں گے۔‘الطاف بخاری کا مزید کہنا تھا :’جن کو مزدوری اور نوکریاں کرنی ہیں ،وہ ان دو خاندانی جماعتوں میں شمولیت اختیار کریں اور عوام کے لئے سیاست میں آنا چاہتے ہیں اور جذبہ خدمت رکھتے ہیں ،اپنی پارٹی کے لئے دروازے کھلے ہیں ،کیوں کہ یہ خود مختار اور عوام دوست پارٹی ہے ۔‘
دفعہ 370 اور35 اے کی تنسیخ، مرکز سے مذاکرات اور اپنی پارٹی کا کردار:اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے الطاف بخاری نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد عوام کو جذباتی نعروں کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت تھی، اسی لیے اپنی پارٹی نے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔انہوں نے کہا:’ہم نے تین ماہ تک ہوم ورک کیا، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے ملاقاتیں کیں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔‘انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی کوششوں سے تقریباً3200 افراد جیلوں سے رہا ہوئے جبکہ زمین اور روزگار کے تحفظ سے متعلق معاملات پر بھی مرکز کو قائل کیا گیا۔انہوں نے کہا:’ ہم سیاسی تجارت نہیں کرتے ناہی سیاسی سوداگر ہیں، اسی لیے شاید ہم اپنی کامیابیوں کو عوام کے سامنے بہتر انداز میں پیش نہیں کر سکے، لیکن ہم نے خاموشی سے لوگوں کے لیے کام کیا۔‘
2024 کے اسمبلی انتخابات اور سیاسی منظرنامہ:2024کے اسمبلی انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے الطاف بخاری نے کہا کہ وہ انتخابی نتائج کا ذمہ دار عوام کو نہیں بلکہ اس وقت کے سیاسی ماحول اور مرکز کو سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا:’جموں میں ایک مخصوص سیاسی بیانیے کو فائدہ ملا جبکہ کشمیر میں علاقائی جماعتوں نے سیاسی حالات کا فائدہ اٹھایا۔ پہلی مرتبہ انتخابات اس نوعیت کے ماحول میں ہوئے جس کے اثرات مستقبل میں بھی محسوس کیے جائیں گے۔‘
اختیارات کا سوال اور منتخب حکومت کی ذمہ داری: جموں و کشمیر اس وقت لیفٹیننٹ گورنر، مرکزی حکومت اور منتخب حکومت کے درمیان تقسیم شدہ انتظامی ڈھانچے کے تحت چل رہا ہے۔موجودہ حکومت کے اختیارات سے متعلق سوال پر الطاف بخاری نے کہا کہ جب عوام آپ کو منتخب کرتے ہیں تو سب سے بڑا اختیار ان کا اعتماد ہوتا ہے۔انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا:’ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ٹیم کا کپتان کوئی اور ہے اور میں نائب کپتان ہوں۔اگر ٹیم ورک نہیں کر سکتے تو پھر میدان میں اترنے کا فیصلہ کیوں کیا؟‘۔ان کا اشارہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب تھا ۔انہوں نے مزید کہا کہ اختیارات کی کمی کو کارکردگی نہ دکھانے کا بہانہ بنانا درست نہیں اور منتخب قیادت کو اپنی صلاحیت، تدبر اور مذاکراتی حکمت عملی سے عوامی مسائل حل کرنے چاہئیں۔
لیفٹیننٹ گورنر کی مفاہمتی پہل قابلِ تحسین:سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر مثبت اقدامات کو سراہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی ایک اہم پہل کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شورش سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکساں ہمدردی اور انسانی بنیادوں پر انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ہر متاثرہ خاندان کو عزت اور سہارا ملے، چاہے وہ کسی بھی پس منظر سے تعلق رکھتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ1990 سے جموں و کشمیر میں شورش کے دوران دونوں طرف کی بندوقوں سے بے شمار جانیں ضائع ہوئیں، لیکن مختلف ادوار میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکساں برتاؤ نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا:’سرکاری بندوق سے مارے جانے والوں کے اہل خانہ کو ہماری حکومتوں نے نوکریاں اور دیگر سہولیات فراہم کیں، لیکن دوسری طرف کی بندوق سے متاثر ہونے والے بہت سے خاندان سماجی طور پر تنہا رہ گئے اور اُنہیں الگ تھلگ کیا گیا۔ کئی ایسے بھی تھے جن کے جنازوں میں لوگ شریک ہونے سے بھی گریز کرتے تھے۔ یہ ہمارے معاشرے کا ایک تلخ باب ہے۔‘الطاف بخاری نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ایسے متاثرہ خاندانوں کی داد رسی اور ان کی بحالی کے لیے جو اقدامات کیے، وہ ایک مثبت اور انسان دوست پہل ہے۔
ریاستی درجے کی بحالی اور مرکز سے تعلقات:ریاستی درجے کی بحالی پر اظہار خیال کرتے ہوئے الطاف بخاری نے کہا کہ یہ مسئلہ تصادم سے نہیں بلکہ اعتماد، مسلسل رابطے اور مذاکرات سے حل ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا:’جو کچھ ملنا ہے وہ دہلی سے ہی ملنا ہے۔ ٹکراؤ کی سیاست سے نہیں بلکہ بات چیت اور اعتماد سازی سے راستہ نکلے گا۔ عوام کو حقیقت پسندانہ سیاست کی ضرورت ہے۔‘ان کا کہناتھا :’ریاستی درجے کی بحالی کا راستہ تصادم نہیں بلکہ اعتماد اور مذاکرات سے ہو کر گزرتا ہے۔ جو کچھ ملنا ہے، وہ دہلی سے ہی ملنا ہے، اس لیے محاذ آرائی نہیں بلکہ بامعنی بات چیت ضروری ہے۔‘انہوں نے کہا :’گپکار اتحاد اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی ایک سیاسی مشق تھی۔ آج وہی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہی ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کی سیاست حقیقت پر نہیں بلکہ اقتدار کے گرد گھومتی رہی ہے۔‘الطاف بخاری نے کہا :’لوگوں سے ایسے وعدے نہیں کرنے چاہئیں جو پورے نہ ہو سکیں۔ میری سیاست کا اصول یہی ہے کہ جو ممکن ہے وہی عوام کو بتایا جائے، کیونکہ حقیقت پسندانہ سیاست ہی دیرپا نتائج دے سکتی ہے۔‘انہوں نے کہا :’ریاستی درجے کی بحالی دہلی سے ٹکراؤ سے نہیں بلکہ اعتماد، مسلسل رابطے اور سنجیدہ مذاکرات سے ممکن ہے۔ یہی راستہ جموں و کشمیر کے مفاد میں ہے جبکہ نیشنل کانفرنس کی احتجاجی کال ڈٖرامہ بازی کے سوا کچھ نہیں۔‘
اپنی پارٹی ایک متبادل سیاسی پلیٹ فارم:اپنی پارٹی کے مستقبل پر گفتگو کرتے ہوئے الطاف بخاری نے کہا کہ ان کی جماعت خاندانی سیاست پر یقین نہیں رکھتی بلکہ عام کارکنوں اور نوجوانوں کے لیے ایک کھلا سیاسی پلیٹ فارم ہے۔انہوں نے کہا:’این سی اور پی ڈی پی دو خاندانوں کے گرد گھومنے والی جماعتیں ہیں، جبکہ ہماری جماعت میں قیادت کا دروازہ ہر اس نوجوان کے لیے کھلا ہے جو عوام کی خدمت کرنا چاہتا ہے۔ آج میں ہوں، کل میری جگہ کوئی نوجوان بھی آ سکتا ہے۔‘نوجوانوں کے نام پیغام:جموں و کشمیر کے نوجوانوں سے خصوصی پیغام میں الطاف بخاری نے کہا کہ وہ وعدہ کرتے ہیں کہ اپنی پارٹی کا کردار ہمیشہ ایسا رہے گا جس پر نئی نسل فخر کر سکے۔انہوں نے کہا:’میں نوجوانوں سے وعدہ کرتا ہوں کہ ہماری وجہ سے انہیں کبھی شرمندگی محسوس نہیں ہوگی۔ ہم ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے ان کا سر جھک جائے بلکہ ہماری کوشش ہوگی کہ وہ ہمیشہ فخر کے ساتھ سر بلند کریں۔‘
اپنی پارٹی کی ترجیحات:گفتگو کے دوران الطاف بخاری نے کہا کہ ان کی جماعت کی اولین ترجیحات تعلیم، صحت، روزگار، بنیادی شہری سہولیات، بدعنوانی کا خاتمہ، بجلی و پانی کی فراہمی، رابطہ سڑکوں کی بہتری اور عوامی مشکلات کا فوری ازالہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی سیاست کو جذباتی نعروں سے نکال کر عملی اقدامات، شفاف طرز حکمرانی اور عوامی خدمت کی بنیاد پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے بقول:’ہماری سیاست اقتدار کے لیے نہیں بلکہ عوام کی خدمت کے لیے ہے اور یہی ہماری سب سے بڑی شناخت ہے۔‘




