سرینگر،: پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے بدھ کو وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سرینگر کے مضافات میں واقع داچھی گام نیشنل پارک میں حکومت کے 19 ماہ دور کا جائزہ اجلاس منعقد کرنا بذاتِ خود موجودہ حکومت کی عکاسی کرتا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں سجاد لون نے کہا کہ آج وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے کیا گیا ’’بڑا اعلان‘‘ دراصل یہ ہے کہ وہ مکمل طور پر ایک سیاح ہیں۔
انہوں نے لکھا، ’’تو یہ ہے وہ بڑا اعلان جس کا وزیرِ اعلیٰ صاحب نے عندیہ دیا تھا۔ ایک پکے سیاح کی طرح خوبصورت اور دلکش داچھی گام کی سیر۔‘‘
داچھی گام اور حکومت کے طرزِ عمل کے درمیان مماثلت بیان کرتے ہوئے سجاد لون نے کہا، ’’داچھی گام آج کے اجتماع کی دراصل علامت ہے۔ یہ ایک الگ تھلگ اور محدود رسائی والی جگہ ہے۔ یہی موجودہ حکومت کی کیفیت کا خلاصہ بھی ہے؛ عوام سے دور، الگ تھلگ اور محدود رسائی والی۔‘‘
طنزیہ انداز میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اراکینِ اسمبلی کو ’’داچھی گام کے جنگلی حیات کے علاقے‘‘ میں منتقل کیا گیا ہے جہاں انہیں ایک واضح پیغام دیا جائے گا۔ انہوں نے لکھا، ’’انہیں کہا جائے گا کہ صف میں شامل ہو جائیں، ورنہ یہیں رک کر چڑیا گھر کے مکینوں کا ساتھ دیں۔ البتہ چڑیا گھر کے مکین بظاہر اس صورتحال پر حیران و پریشان ہیں۔‘‘





