ابو قاسم
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ میں جہاں ایک طرف پاکستان کے سیاسی اور فوجی حکام خود کو امن کے چیمپئن ثابت کرنے کی غرض سے اسلام آباد میں مذاکرات کا ٹیبل سجا تے رہے ، وہیں دوسری جانب پاکستان اپنے ہمسایہ ملک افغانستان کے مختلف شہروں پر بمباری کرتا رہا اور یہاں طالبان فوج کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کا خون بھی بہایا گیا ،جو اب بھی جاری ہے۔19ویں صدی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کھینچی گئی سرحد،جسے’’ ڈیورنڈ لائن‘‘(Durand Line) کہا جاتا ہے۔ تاریخ کے مطابق یہ سرحد1893ء میں برطانوی ہند کے نمائندے سر مورٹیمر ڈیورنڈ اور افغان امیر عبدالرحمن خان کے درمیان ایک معاہدے کے تحت قائم کی گئی تھی۔ اسی وجہ سے اسے’’ ڈیورنڈ لائن‘ ‘کہا جاتا ہے۔ اس سرحد کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان مختلف ادوار میں اختلافات بھی پائے جاتے رہے ہیں۔پاکستانی فوج ہمیشہ اس سرحد پر خلاف ورزی کرتی آئی ہے اور وہ ہمیشہ اس تاک میں رہتی ہے کہ اس سرحد کے ارد گرد افغان علاقوں کو بزورِ طاقت ہڑپ لیاجائے۔
جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے، یہ ایک ایسی بہادر قوم مانی جاتی ہے جو نہ صرف اپنے حق کی خاطر لڑنا جانتی ہے بلکہ اس قوم کی ایک بڑی خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ جس کسی کے ساتھ دوستی کرتی ہے اُس پر اپنی جان نچھاور کرتی ہے اور جس کسی کے ساتھ دشمنی کرتی ہے اُس کے خلاف بہادری کے ساتھ لڑتی ہے۔دیکھا جائے تو پاکستان کے بجائے بھارت کے ساتھ افغان طالبان حکومت کے اچھے اور بہتر تعلقات قائم ہوگئے ہیں۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جب بھی افغانستان کسی مشکل میں تھا تو بھارت تعمیر و ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے حوالے سے ان کی مدد کرتا رہا۔ افغانستان میں موجود پارلیمنٹ عمارت اس کی ایک اہم مثال ہے جس کو تعمیر کرنے کے لیے بھارت نے اربوں روپے خرچ کیے ہیں تاکہ اس ملک میں حکمران بہتر ڈھنگ سے افغان عوام کی ترجمانی، نمائندگی اور خدمت کر سکیں۔
اس کے برعکس افغانستان اور امریکہ کے درمیان جنگ میں پاکستان صرف اپنا فائدہ مدنظر رکھتا تھا اور ڈالروں کی خاطر افغانیوں کی قربانیوں کا انہیں کوئی غم نہ تھا۔ اب جبکہ افغانستان میں طالبان حکومت کا قیام ہوا اور پاکستان کو لگ رہا تھا کہ اقتصادی طور پر کمزور ملک پر وہ اپنا دبدبہ قائم کرے گا، لیکن طالبان حکومت نے پاکستان کی نیت اچھی طرح سمجھ لی اور انہوں نے پاکستان کے بجائے بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر ڈھنگ سے استوار کیے ہیں کیونکہ طالبان حکمرانوں کو بخوبی علم ہے کہ بھارت ایک ترقی یافتہ اقتصادی ملک کے طور پر آگے بڑھ رہا ہے، لہٰذا بھارت کے ساتھ دوستی سے انہیں زیادہ سے زیادہ فائدہ مل جائے گا اور افغان عوام کو غربت و افلاس سے نجات مل جائے گی۔
لیکن پاکستانی فوج اور حکمرانوں کو ان دونوں ممالک کی دوستی راس نہیں آئی۔ انہوں نے طالبان حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ پاکستان تحریکِ طالبان کو مدد دے کر پاکستان میں دہشت گردی کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ پاکستانی فوج نے افغانستان کے مختلف شہروں پر ہوائی حملے کیے جن میں کابل، قندہار اور پکتیا شامل ہیں۔26 فروری کو پاکستانی فوج نے افغان سرحد عبور کرکے یہاں سینکڑوں افغان فوجیوں اور عام شہریوں کو مار ڈالا، ان کے مال و جائیداد کو تباہ کیا۔ اس طرح پاکستان نے طالبان حکومت اور افغان عوام کو دبانے کی بھرپور کوشش کی۔دیکھا جائے تو یہاں مارے گئے فوجی اور عام شہری سب کے سب مسلمان تھے، لیکن آج تک کسی بھی مسلم ملک نے اپنی زبان نہیں کھولی اور نہ ہی پاکستان کے اس حملے کی مذمت کی، نہ ہی افغانستان کے ساتھ کسی قسم کی ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس بات سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ دنیا بھر کے مسلم ممالک کے قول و فعل میں تضاد ہے۔مسلم ممالک کی اس خاموشی سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ دورخی پالیسی اپنا رہے ہیں جو انتہائی مایوس کن اور افسوسناک ہے۔





