ملک میں حالیہ دنوں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘کے نام سے چلنے والی آن لائن احتجاجی مہم نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بظاہر یہ ایک طنزیہ مہم ہے، مگر اس طنز کے پیچھے نوجوان نسل کی بے بسی، بے روزگاری اور حکومتی پالیسیوں سے بڑھتی مایوسی صاف محسوس کی جا سکتی ہے۔ نوجوانوں نے میمز، ویڈیوز اور سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے اپنی آواز بلند کی اور یہ ثابت کیا کہ خاموش نسل اب خاموش رہنے کے لیے تیار نہیں۔بھارت دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوان آبادی کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ ایک بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے، جنہیں کسی بھی ملک کی اصل طاقت اور مستقبل کہا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہی نوجوان بے روزگاری، مایوسی اور غیر یقینی حالات کا شکار ہو جائیں تو پھر ملک کا مستقبل کس سمت جائے گا؟ حکومتیں نوجوانوں کو قوم کا سرمایہ قرار دیتی ہیں، انتخابی مہمات میں بڑے بڑے وعدے کیے جاتے ہیں، روزگار، ترقی اور روشن مستقبل کے خواب دکھائے جاتے ہیں، مگر زمینی حقیقت آج بھی لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوانوں کے چہروں پر دکھائی دینے والی بے بسی میں نظر آتی ہے۔یہ درست ہے کہ بعض حلقوں نے نوجوانوں کو ’کاکروچ‘ جیسے الفاظ سے پکارنے کی کوشش کی، مگر حقیقت یہ ہے کہ ملک کے نوجوان’ کاکروچ‘ نہیں، بلکہ اسی معاشرے کی امید ہیں۔ وہ صرف اپنے حق، اپنی شناخت اور اپنے بہتر مستقبل کی بات کر رہے ہیں۔ ان کی آواز کو دبانے کے بجائے سننے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے کو جگہ دی جاتی ہے، کیونکہ نوجوانوں کی آواز دراصل مستقبل کی آواز ہوتی ہے۔
اس احتجاجی مہم کی ایک اہم بات یہ بھی رہی کہ نوجوانوں نے پُرامن اور جدید طرزِ احتجاج اختیار کیا۔ انہوں نے نہ سڑکیں بند کیں، نہ جلائو گھیرائو کیا، نہ عوامی املاک کو نقصان پہنچایا۔انہوں نے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے حکمرانوں تک اپنی’من کی بات‘ پہنچانے کی کوشش کی۔ یہ نئی نسل کا نیا انداز ہے، جسے سمجھنے کی ضرورت ہے، رد کرنے کی نہیں۔ آج کا نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے احساسات، اپنے سوالات اور اپنے غصے کا اظہار کرتا ہے، کیونکہ شاید روایتی سیاسی پلیٹ فارم اب اس کی بات سننے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملک میں بڑھتی مہنگائی، محدود روزگار کے مواقع، مسابقتی امتحانات میں تاخیر اور بے ضابطگیوں کے علاوہ کئی شعبوں میں بھرتیوں کے مسائل نے نوجوان نسل میں بے چینی پیدا کی ہے۔ تعلیم مکمل کرنے کے باوجود جب روزگار نہ ملے، تو نوجوانوں کے اندر مایوسی جنم لیتی ہے۔ یہی مایوسی پھر طنز، میمز اور احتجاجی مہمات کی شکل اختیار کرتی ہے۔ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ بھی دراصل اسی بے چینی کی علامت بن کر سامنے آئی ہے۔سیاسی جماعتوں، حکمرانوں اور پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ نوجوان نسل کے مسائل کو سنجیدگی سے لیں۔ بے روزگاری صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی بے چینی کو جنم دینے والا بحران بھی ہے۔ ہر اُس نوجوان تک پہنچنا وقت کی ضرورت ہے جو تعلیم کے باوجود روزگار سے محروم ہے، کیونکہ روزگار فراہم کرنا حکومت اور حکمرانوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ صرف نعروں، اشتہارات اور تقاریر سے نوجوانوں کا اعتماد بحال نہیں کیا جا سکتا، اس کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔
افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ اکثر سیاسی جماعتیں نوجوانوں کو صرف انتخابی مہمات تک محدود رکھتی ہیں۔ جلسوں میں نوجوانوں کی توانائی تو استعمال کی جاتی ہے، مگر پالیسی سازی میں ان کی حقیقی نمائندگی کم دکھائی دیتی ہے۔ نوجوان نسل صرف وعدے نہیں بلکہ عملی تبدیلی چاہتی ہے۔ وہ’ نوجوان نسل‘ بہتر تعلیمی نظام، شفاف بھرتی کے عمل، روزگار کے مساوی مواقع اور اپنے مستقبل کے تحفظ کی خواہاں ہے۔اگر نوجوانوں کے خواب مسلسل ٹوٹتے رہے تو اس کے اثرات صرف ایک نسل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے ملک کے مستقبل پر پڑیں گے۔ اس لیے طنز کے پیچھے چھپے اس پیغام کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ کبھی کبھی معاشرے کی سب سے سنجیدہ باتیں مزاح اور طنز کے پردے میں ہی کہی جاتی ہیں۔ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ شاید ایک رسمی سیاسی جماعت نہ ہو، لیکن اس نے حکمرانوں کو یہ احساس ضرور دلایا ہے کہ نوجوان نسل اب خاموش تماشائی بن کر رہنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ (نوجوان نسل)اپنے مسائل کے حل، اپنی شناخت اور اپنے بہتر مستقبل کے لیے آواز بلند کرنا جانتی ہے اور یہی آواز کسی بھی جمہوری معاشرے کی اصل طاقت ہوتی ہے۔





