ہفتہ, جولائی 18, 2026
23.8 C
Srinagar

سپریم کورٹ کی ریزولوشن پلان کی منظوری میں تاخیر پر این سی ایل ٹی کی سرزنش، ملک گیر رپورٹ طلب

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کے روز نیشنل کمپنی لاء ٹربیونل (این سی ایل ٹی) کی جانب سے ریزولوشن پلانز کی منظوری میں طویل تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا عدالت نے این سی ایل ٹی کی پرنسپل بنچ، نئی دہلی اور انسولوینسی اینڈ بینکرپٹسی بورڈ آف انڈیا (آئی بی بی آئی) کو ہدایت دی کہ وہ زیر التواء درخواستوں اور ان میں تاخیر کی وجوہات پر مشتمل جامع ملک گیر ڈیٹا فراہم کریں۔

جسٹس جے بی پارڈی والا اور جسٹس کے وی وشوناتھن پر مشتمل بنچ ایک ایسے کیس کی سماعت کر رہی تھی جہاں ایک منصوبہ تقریباً دو سال سے زیر التواء تھا۔ یہ تنازع دیوالیہ پن کی کارروائی سے پیدا ہوا تھا، جس میں آئی آئی ایف ایل کے 85 کروڑ روپے کے دعوے کو شروع میں 2020 میں ریزولوشن پروفیشنل نے مسترد کر دیا تھا، جسے بعد میں این سی ایل ٹی نے منظور کیا اور 2023 میں این سی ایل اے ٹی نے برقرار رکھا، جس کے بعد سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی گئیں۔

عدالت نے اشارہ دیا کہ جب ریزولوشن پلان پیش کیا جاتا ہے تو این سی ایل ٹی کے لیے اسے بروقت منظور کرنا لازمی ہے، ورنہ آئی بی سی کا وقت کے پابند کارپوریٹ انسولوینسی ریزولوشن پراسیس (سی آئی آرپی ) مکمل کرنے کا مقصد ناکام ہو جائے گا۔

عدالت نے این سی ایل ٹی کی پرنسپل بنچ کو حکم دیا کہ وہ جلد از جلد یہ معلومات فراہم کرے کہ منظوری کے لیے کتنی درخواستیں زیر التواء ہیں اور یہ درخواستیں کتنے عرصے سے لٹکی ہوئی ہیں۔ مزید برآں، عدالت نے ان وجوہات کی بھی وضاحت طلب کی ہے جن کی بنا پر منظوری کی درخواستوں پر اب تک فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

یواین آئی

Popular Categories

spot_imgspot_img