سرینگر میں الوانیا انرجیز کی شاندار لانچنگ ،ماحول دوست ٹیکنالوجی اور ایک نئے معاشی دور کا آغاز
شوکت ساحل
سرینگر:کشمیر میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، ماحول دوست توانائی کے فروغ اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ٹرانسپورٹ کے ایک نئے دور کا آغاز کرتے ہوئے (Elvania Energies 369 Pvt Ltd)نے بدھ کو سرینگر میں اپنی باضابطہ اور شاندار لانچنگ کا اعلان کیا۔ یہ تقریب نہ صرف ایک کاروباری آغاز تھا بلکہ ایک ایسے خواب کی تکمیل بھی تھی ،جس کا مقصد کشمیر کے نوجوانوں کو خود کفیل بنانا اور انہیں عالمی معیار کی ٹیکنالوجی سے جوڑنا ہے۔یہ تقریب سرینگر کے ایک معروف ہوٹل میں منعقد ہوئی جہاں شہر بھر سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب کا ماحول نہایت پرجوش، پرامید اور مستقبل کے امکانات سے بھرپور تھا۔ حاضرین میں کاروباری شخصیات، ڈیلرز، شو روم مالکان، صحافی، ٹیکنالوجی سے دلچسپی رکھنے والے افراد اور حکومتی و ٹریفک حکام بھی شامل تھے۔
ایک خواب جو حقیقت میں بدل گیا:یہ لانچنگ محض ایک کمپنی کی شروعات نہیں تھی بلکہ ایک کشمیری نوجوان انٹرپرینیور کے خواب کی عملی تعبیر تھی۔ کمپنی کے بانی عارف شفیع خانیاری نے اس موقع پر اپنی زندگی کے سفر، جدوجہد اور اس وژن پر تفصیلی روشنی ڈالی جس نے انہیں اس مقام تک پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ کشمیر کے نوجوانوں کے لیے ایسے مواقع پیدا کیے جائیں ،جہاں وہ صرف نوکری کے منتظر نہ رہیں بلکہ خود روزگار کے مواقع پیدا کرنے والے بنیں۔ ان کے مطابق جدید دنیا میں توانائی اور ٹرانسپورٹ کا مستقبل الیکٹرک اور ماحول دوست ٹیکنالوجی میں ہے اور اسی سوچ کے تحت اور تحقیق ی بنیاد پر الوانیا انرجیز کا قیام عمل میں لایا گیا۔عارف شفیع خانیاری نے اپنی” پاور پوائنٹ پریزنٹیشن “کے ذریعے کمپنی کے وژن، مشن اور مستقبل کے منصوبوں کو تفصیل سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک کاروبار نہیں بلکہ ایک تحریک ہے جو نوجوانوں کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ماحول کو بھی محفوظ رکھنے میں مدد دے گی جبکہ کشمیر کے برینڈ کو دنیا بھر متعارف کرانا ہے۔

الیکٹرک سکوٹیوں کی باضابطہ لانچنگ:تقریب کے دوران کمپنی نے اپنے پہلے مرحلے میں الیکٹرک ٹو وہیلر یعنی سکوٹیوں کو باضابطہ طور پر لانچ کیا۔ یہ سکوٹیاں جدید ٹیکنالوجی، ماحول دوست نظام اور کم لاگت سفر کے تصور کے ساتھ متعارف کرائی گئیں۔کمپنی کے مطابق ابتدائی ماڈلز کی قیمت تقریباً 60 ہزار روپے رکھی گئی ہے تاکہ عام صارف بھی آسانی سے ان تک رسائی حاصل کر سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ صارفین کے لیے فنانس سہولت بھی فراہم کی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس جدید ٹرانسپورٹ نظام کا حصہ بن سکیں۔کمپنی حکام کے مطابق یہ سکوٹیاں نہ صرف شہری علاقوں میں روزمرہ سفر کے لیے موزوں ہیں بلکہ دیہی علاقوں میں بھی بہترین کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

ماحول دوست توانائی کا وژن:الوانیا انرجیز کا بنیادی مقصد صرف گاڑیاں تیار کرنا نہیں بلکہ ایک مکمل گرین انرجی ایکو سسٹم قائم کرنا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ان کی تیار کردہ سکوٹیاں کم توانائی استعمال کرتی ہیں اور ماحول پر منفی اثرات کو کم سے کم کرتی ہیں۔تقریب میں بتایا گیا کہ کمپنی مستقبل میں نہ صرف دو پہیہ گاڑیاں بلکہ تھری وہیلر اور فور وہیلر الیکٹرک گاڑیاں بھی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ ٹرانسپورٹ کے تمام شعبوں میں ماحول دوست حل فراہم کیے جا سکیں۔
تھری وہیلر ایکسچینج آفر کا اعلان:لانچنگ تقریب کے موقع پر کمپنی کے بانی عارف شفیع خانیاری نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے ”تھری وہیلر ایکسچینج آفر“متعارف کرائی۔اس اسکیم کے تحت صارف اپنی پرانی تھری وہیلر گاڑی دے کر کمپنی کی جدید الیکٹرک تھری وہیلر حاصل کر سکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پرانی آلودگی پیدا کرنے والی گاڑیوں کو ختم کرنا اور ماحول دوست الیکٹرک ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا ہے۔ان کے مطابق نئی تھری وہیلر گاڑیاں کم خرچ، جدید ٹیکنالوجی اور بہتر کارکردگی کی حامل ہوں گی، جو روزگار پیشہ افراد کے لیے ایک بہترین موقع فراہم کریں گی۔
جدید ٹیکنالوجی اور اسمارٹ فیچرز:کمپنی کی جانب سے پیش کی گئی سکوٹیوں میں جدید دور کے مطابق کئی اسمارٹ فیچرز شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں موبائل ایپ کنیکٹیویٹی، جی پی ایس ٹریکنگ، بیٹری مانیٹرنگ سسٹم اور ڈیجیٹل ڈیش بورڈ جیسے فیچرز شامل ہیں۔عارف شفیع خانیاری نے بتایا کہ کمپنی اپنی گاڑیوں میں اے آئی بیسڈ سسٹمز بھی شامل کئے ہیں جن کے ذریعے گاڑی کی کارکردگی، بیٹری کی حالت اور ممکنہ خرابیوں کا پہلے ہی اندازہ لگایا جا سکے گا۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا مقصد صرف سہولت نہیں بلکہ حفاظت اور اعتماد کو بھی یقینی بنانا ہے۔ان کا کہناتھا کہ ”زون “ کے نام سے ایک اے آئی فیچر صارفین کا ہم سفر رہے گا ۔
بڑی تعداد میں شرکاءکی شرکت:اس اہم تقریب میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ ان میں:ایس ایس پی ٹریفک سرینگر سٹی،ڈی ایس پی سٹی،مختلف ڈیلرز اور شو روم اونرز،مقامی صحافی برادری کے نمائندے،کاروباری شخصیات اور سرمایہ کار شامل ہیں ۔ان تمام مہمانوں نے کمپنی کے اس اقدام کو سراہا اور اسے کشمیر کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔شرکاءنے کہا کہ اس طرح کے منصوبے نہ صرف نوجوانوں کو روزگار فراہم کرتے ہیں بلکہ خطے میں جدید ٹیکنالوجی کو بھی فروغ دیتے ہیں۔

تقریب کی نظامت:اس پروقار تقریب کی نظامت کے فرائض سید تجمل الاسلام نے انجام دیے۔ انہوں نے پورے پروگرام کو نہایت منظم انداز میں آگے بڑھایا اور مختلف مقررین کو اظہار خیال کا موقع فراہم کیا۔
ڈیلرشپ اور روزگار کے مواقع:تقریب میں کمپنی کی جانب سے (Hyper Local Micro Dealership (HLMD)) ماڈل کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس ماڈل کا مقصد یہ ہے کہ عام افراد کم سرمایہ کاری کے ساتھ بھی اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔کمپنی کے مطابق ڈیلرشپ ماڈل کو مختلف سرمایہ کاری کی سطحوں پر تقسیم کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں شامل ہو سکیں۔ابتدائی سطح (تقریباً 6 لاکھ روپے)،درمیانی سطح (تقریباً 12 لاکھ روپے) اوراعلیٰ سطح (تقریباً 25 لاکھ روپے) ہے۔ان منصوبوں کے تحت افراد اپنی صلاحیت اور سرمایہ کے مطابق کاروبار شروع کر سکتے ہیں۔کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل خاص طور پر نوجوانوں، خواتین اور دیہی علاقوں کے افراد کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔
کشمیر میں معاشی تبدیلی کی امید:معاشی ماہرین کے مطابق اس طرح کے منصوبے کشمیر کی معیشت میں ایک مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو اگر مقامی سطح پر روزگار کے مواقع ملیں تو نہ صرف بے روزگاری میں کمی آئے گی بلکہ مقامی صنعت بھی مضبوط ہوگی۔الوانیا انرجیز کی لانچنگ کو اسی تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مالیاتی سہولیات اور آسان اقساط:کمپنی کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ سکوٹیوں کی خریداری کے لیے آسان اقساط اور فنانس کی سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ ہر طبقے کا فرد اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکے۔یہ اقدام خاص طور پر ان افراد کے لیے اہم ہے جو ایک ساتھ مکمل رقم ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔مستقبل کا وژن:عارف شفیع خانیاری نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ان کا مقصد صرف ایک کمپنی چلانا نہیں بلکہ ایک ایسا ماڈل تیار کرنا ہے جو آنے والے وقت میں پورے بھارت میں ایک مثال بن سکے۔انہوں نے کہا کہ اگر نوجوانوں کو صحیح سمت، جدید ٹیکنالوجی اور کاروباری مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ کسی بھی معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔






