ہفتہ, جولائی 25, 2026
20.6 C
Srinagar

داچھی گام میں اپنی نوعیت کا پہلا سیاسی اجلاس :’دہلی میں ہوگا احتجاج‘

ریاستی درجہ،آئینی ضمانتیں ہماری بنیادی اور جائز مانگ : تنویر صادق

شوکت ساحل

سرینگر،: نیشنل کانفرنس نے جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ اور آئینی ضمانتیں بحال کرنے کے مطالبے کے حق میں پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس کے پہلے روز نئی دہلی میں احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جموں و کشمیر میں دفعہ370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد سیاسی جماعتیں اپنے آئینی اور سیاسی مطالبات کو نئی شدت کے ساتھ اٹھا رہی ہیں۔

یہ فیصلہ بدھ کے روز وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی صدارت میں داچھی گام نیشنل پارک میں منعقدہ نیشنل کانفرنس کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں لیا گیا، جس میں پارٹی قیادت، وزراءاور اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔ داچھی گام نیشنل پارک میں منعقد ہونے والا یہ اپنی نوعیت کا پہلا بڑا سیاسی اجلاس تصور کیا جا رہا ہے، جہاں پارٹی نے مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر غور کیا۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی تنویر صادق نے کہا کہ نیشنل کانفرنس لیجسلیچر پارٹی کے اجلاس میں جموں و کشمیر سے متعلق سیاسی، آئینی اور ترقیاتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے افتتاحی دن نئی دہلی میں جنتر منتر یا کسی اور مقررہ مقام پر احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔تنویر صادق نے کہا، :’نیشنل کانفرنس نے طے کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے روز ہم ریاستی درجہ اور آئینی ضمانتوں کی بحالی کے مطالبے پر دہلی میں احتجاج کریں گے۔‘انہوں نے زور دے کر کہا کہ ریاستی درجہ کی بحالی نیشنل کانفرنس کا بنیادی اور جائز مطالبہ ہے، جو جموں و کشمیر کے عوام کا آئینی حق اور ضمانت ہے۔

ان کا کہنا تھا،:’اب وقت آ گیا ہے کہ ہم وہ حق واپس حاصل کریں جو ہم سے چھین لیا گیا تھا۔‘سیاسی مبصرین کے مطابق پانچ اگست 2019 کو مرکزی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے اور دفعہ 370 و 35 اے کی منسوخی کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی بڑی سیاسی جماعت نے پارلیمنٹ کے اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی قومی دارالحکومت میں باضابطہ احتجاجی پروگرام کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ5 اگست 2019 کو مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرتے ہوئے دفعہ370 اور35 اے کو منسوخ کر دیا تھا اور سابق ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے ریاستی درجہ کی بحالی جموں و کشمیر کی متعدد سیاسی جماعتوں کا اہم مطالبہ رہا ہے۔اجلاس میں جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، ترقیاتی سرگرمیوں، عوامی مسائل اور پارٹی کی آئندہ حکمت عملی کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

Popular Categories

spot_imgspot_img