سری نگر، 6 اپریل: جموں و کشمیر حکومت نے ضلع بارہمولہ میں لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ملک کے قدیم ترین ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے، موہرا پاور پروجیکٹ، کو دوبارہ فعال بنانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔
موہرا پاور ہاؤس 1990 کی دہائی کے اوائل سے غیر فعال ہے۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو محکمہ بجلی کا قلمدان بھی رکھتے ہیں، نے گزشتہ ہفتے اسمبلی کو بتایا کہ جے اینڈ کے اسٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن (جے کے ایس پی ڈی سی) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 10.5 میگاواٹ موہرا ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کی بحالی کا عمل شروع کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 9 فروری کو منعقدہ بورڈ کے 97ویں اجلاس میں اس منصوبے کی بحالی پر غور کیا گیا اور اسے آگے بڑھانے کی منظوری دی گئی۔ بورڈ نے محدود ٹینڈر انکوائری (ایل ٹی ای) جاری کرنے کی منظوری دی تاکہ محکمہ معاشی امور (ڈی ای اے) کے منظور شدہ اداروں میں سے ایک ٹرانزیکشن ایڈوائزر کی خدمات حاصل کی جا سکیں، جو منصوبے کی مرمت، جدیدکاری، اپ گریڈیشن اور آپریشن و دیکھ بھال (آر ایم اینڈ او ایم) کے عمل کی نگرانی کرے گا۔
بورڈ نے جے کے ایس پی ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر کو ٹرمز آف ریفرنس کو حتمی شکل دینے، جائزہ فریم ورک تیار کرنے، ٹینڈر کمیٹی تشکیل دینے اور منتخب ٹرانزیکشن ایڈوائزر کو منظوری و ایوارڈ جاری کرنے کا اختیار بھی دیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جے کے ایس پی ڈی سی نے بورڈ کے فیصلے کے مطابق اس عمل پر پہلے ہی کام شروع کر دیا ہے۔
1902 میں قائم کیا جانے والا موہرا پاور پروجیکٹ، جو اوڑی سیکٹر کے بونیار علاقے میں ایک رَن آف دی ریور اسکیم کے تحت بنایا گیا تھا، کبھی جموں و کشمیر میں بجلی کی فراہمی کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا تھا، جس کی ابتدائی پیداواری صلاحیت 9 میگاواٹ تھی۔
تقریباً پانچ دہائیوں تک یہ خطے میں بجلی کا واحد بڑا ذریعہ رہا۔ اس منصوبے میں جرمن انجینئروں کی جانب سے تعمیر کیا گیا 11 کلومیٹر طویل لکڑی کا فلیوم بھی شامل تھا، جو اب تقریباً ختم ہو چکا ہے۔
ستمبر 1992 میں اوڑی میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے دوران پاور ہاؤس کو شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد سے یہ غیر فعال ہے۔ وقتاً فوقتاً محکمہ بجلی کی جانب سے قائم کی گئی مختلف کمیٹیوں نے اس کی بحالی کی سفارش کی اور اسے خطے میں بجلی پیدا کرنے کے سستے ترین ذرائع میں سے ایک قرار دیا۔ بعد ازاں اس منصوبے کو ورثہ (ہیریٹیج) کا درجہ بھی دیا گیا۔ (یو این آئی)





