جموں: جموں و کشمیر اسمبلی میں گاندربل انکاؤنٹر کے معاملے پر نیشنل کانفرنس (این سی) اور کانگریس کے ارکانِ اسمبلی نے شدید احتجاج کرتے ہوئے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ ایک بے گناہ شخص کو فرضی مقابلے میں ہلاک کیا گیا۔
کشمیر نیوز آبزرور (کے این او) کے مطابق ہفتہ کو وقفہ سوالات سے قبل این سی کے ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور دعویٰ کیا کہ گاندربل میں ایک بے گناہ شہری کو فرضی انکاؤنٹر میں مارا گیا ہے۔
رکن اسمبلی مبارک گل نے کہا، “ایسے واقعات نہیں ہونے چاہئیں۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ لیفٹیننٹ گورنر نے انکوائری کا حکم دیا ہے، تاہم محکمہ داخلہ اور وزیر داخلہ کو واضح پیغام دینا چاہیے کہ اس حساس ریاست میں کسی بے گناہ کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ عسکریت پسندوں اور شہریوں میں فرق ہونا چاہیے۔”
اسپیکر نے جواب میں کہا کہ واقعے کی تحقیقات کا حکم پہلے ہی دیا جا چکا ہے۔کانگریس کے رکن اسمبلی عرفان حفیظ لون نے متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان میں پلے کارڈ بھی لہرایا۔
این سی کے رکن اسمبلی جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے نشاندہی کی کہ مقتول کی لاش تاحال اہل خانہ کے حوالے نہیں کی گئی اور کہا کہ باوقار تدفین ہر شہری کا آئینی حق ہے۔
کانگریس کے رکن نظام الدین بٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ مجسٹریل انکوائری کافی نہیں اور اس معاملے میں عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا، “انصاف کا تقاضا ہے کہ معاملے کو جلد از جلد نمٹایا جائے۔”
این سی کے میر سیف اللہ نے بھی مطالبہ کیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سیکیورٹی فورسز کو جوابدہ بنایا جائے اور اس معاملے میں مجسٹریل یا عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔
دوسری جانب بی جے پی کے رکن آر پٹھانیا نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ ایوان کے دائرہ اختیار سے باہر ہے، اس لیے اس پر بحث نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے متعدد سوالات بھی اسی بنیاد پر مسترد کیے گئے تھے کہ وہ لیفٹیننٹ گورنر یا حکومتِ ہند کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
واضح رہے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کو اس واقعے کی مجسٹریل تحقیقات کا حکم دیا تھا۔





