سرینگر: میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے سرنکوٹ، پونچھ میں پیش آئے المناک سڑک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے، جس میں چھ قیمتی انسانی جانیں ضائع جبکہ تین افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے جس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
میرواعظ نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، سوگوار خاندانوں کو صبر و حوصلہ دے اور زخمیوں کو جلد اور مکمل صحتیابی عطا فرمائے۔
میرواعظ نے کشتواڑ میں ایک کمسن قبائلی بچی کے مبینہ عصمت دری کے بعد انتقال پر بھی گہرے صدمے اور تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے متعلق سامنے آنے والے حالات انتہائی تشویشناک ہیں گرفتاریوں اور جاری تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ اس معاملے کی مکمل، غیر جانب دارانہ اور بلا تاخیر تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور جو بھی افراد ذمہ دار پائے جائیں، انہیں قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کے تحفظ اور ان کے وقار کو یقینی بنانا، بالخصوص کمزور اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے بچوں کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے۔ ایسے واقعات متاثرہ بچی کے لیے انصاف کے ساتھ ساتھ جہاں کہیں کوتاہی ثابت ہو، وہاں ادارہ جاتی جواب دہی کا بھی تقاضا کرتے ہیں۔
میرواعظ نے نیپال اور ملحقہ ہمالیائی خطے کے بعض علاقوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب پر بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے جبکہ بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ اور بے گھر ہوئے ہیں۔
انہوں نے نیپالی عوام اور اس قدرتی آفت سے متاثرہ تمام افراد کے ساتھ دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے لاپتہ اور پھنسے ہوئے افراد کی سلامتی اور جلد بازیابی کے لیے دعا کی۔
میرواعظ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ لوگوں کو قدرتی آفات سے محفوظ رکھے، تمام سوگوار خاندانوں کو صبر و سکون عطا فرمائے، زخمیوں کو شفا بخشے اور امدادی و بچاؤ کی سرگرمیوں میں مصروف اہلکاروں اور مقامی برادریوں کو حوصلہ اور استقامت عطا فرمائے۔





