منگل, مارچ ۳۱, ۲۰۲۶
18.6 C
Srinagar

ایران، اسرائیل اور امریکہ آمنے سامنے ،جنگ کے سائے میں دنیا ایک بڑے بحران کی طرف بڑھ رہی ہے

عالمی رپورٹس کے مطابق اس وقت دنیا میں کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے، خاص طور پر ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان حالات انتہائی نازک ہو چکے ہیں۔

مختلف علاقوں میں حملے، دھماکے اور فوجی کارروائیاں جاری یں، جس سے نہ صرف خطے کا امن متاثر ہو رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر تیل اور معیشت بھی دباؤ کا شکار ہے۔

ان حالات میں عالمی رہنما سفارتی کوششیں بھی کر رہے ہیں، لیکن صورتحال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے۔سیٹھ کے بروکر نے جنگ سے قبل ’بڑی سرمایہ کاری‘ کی کوشش نہیں کی: پینٹاگون کی تردید

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پینٹاگون کے ایک ترجمان نے فنانشل ٹائمز میں شائع رپورٹ کی سختی سے تردید کی کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کے ’بروکر‘ نے ایران کی جنگ سے چند ہفتے قبل فوجی کمپنیوں یا دفاعی سازوسامان تیار کرنے والی کمپنیوں میں ’بڑی سرمایہ کاری‘ کرنے کی کوشش کی۔

پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنل نے کہا کہ ’نہ ہی سیکریٹری ہیگسیٹھ اور نہ ہی ان کے کسی نمائندے نے بلیک راک سے کسی ایسی سرمایہ کاری کے بارے میں رابطہ کیا۔‘

شان پارنل نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’یہ ایک اور بے بنیاد، غیر ذمہ دارانہ الزام ہے جس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا ہے۔‘ انھوں نے اپنی اسی پوسٹ میں فوری طور پر دعووں کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ پیر کو شائع ہوئی تھی کہ جس میں نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیا گیا تھا اور یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ جنگی حالات اور ماحول میں ایک مرکزی شخصیت رہے ہیں اور ایران پر حملے کی حمایت میں اکثر پریس بریفنگ کی قیادت کرتے رہے ہیں۔

کویت کے آئل ٹینکر پر حملے کے بعد بندرگاہ پر تیل کا رساؤ نہیں ہوا: دبئی حکام

دبئی کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایرانی ڈرون حملے کے بعد جس آئل ٹینکر کو آگ لگی اُس سے تیل سمندر میں تیل کا رساؤ نہیں ہوا۔

جیسا کہ ہم نے آپ تک اس سے پہلے یہ خبر پہنچائی تھی کہ تیل بردار بحری جہاز ’السلْمی‘ میں دو ملین بیرل تیل بھرا ہوا تھا اور یہ چین کی جانب جا رہا تھا کہ جب اسے ایران کی جانب سے ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

دبئی میڈیا آفس نے بعد میں اس بات کی تصدیق کی کہ امدادی کارروائیوں کے دوران ٹینکر پر لگی آگ پر قابو پا لیا گیا اور اس جہاز سے نہ تو تیل کا رساؤ ہوا اور نہ ہی کوئی جانی نقصان ہوا۔

اتحادیوں کی جانب سے روس کی تیل کی تنصیبات پر حملوں کو کم کرنے کا پیغام ملا ہے: زیلنسکی

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیر کو کہا کہ یوکرائن کے کچھ اتحادیوں نے کئیو کو ’اشارے‘ بھیجے ہیں کہ عالمی توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے پیشِ نظر روس کی تیل کی تنصیبات پر حملوں کو محدود کیا جائے۔

واٹس ایپ کے ذریعے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ ’یوکرائن ان اشاروں پر عمل کرنے کو تیار ہے اگر روس کی جانب سے بھی اسی طرح کی حکمتِ عملی اپنانے کا بیان سامنے آتا ہے تو۔

زیلنسکی نے مزید کہا کہ ’حال ہی میں خاص طور پر اس شدید عالمی توانائی کے بحران کے بعد ہمیں کچھ شراکت داروں کی طرف سے پہلے ہی اشارے موصول ہوئے ہیں کہ روس کے تیل اور توانائی کے شعبے پر ہمارے ردعمل کو کس طرح کم کیا جا سکتا ہے۔‘

امریکہ اسرائیل جنگ نے ایران کے خلاف بین الاقوامی تیل، گیس اور ریفائن شدہ مصنوعات کی فراہمی کو کم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں تاریخی طور پر توانائی کی فراہمی میں بدترین بحران کے دوران قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔

جنوبی لبنان میں ایک کارروائی کے دوران چار اسرائیلی فوجی ہلاک

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اسرائیلی دفاعی افواج نے پیر کے روز جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ چار اسرائیلی فوجی لبنان میں ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ یہ بیان آئی ڈی ایف کی جانب سے ٹیلیگرام پر شائع کیا گیا۔

بیان کے مطابق 22 سالہ کیپٹن نوم مادمونی، سٹاف سارجنٹ 21 سالہ بن کوہن اور سٹاف سارجنٹ 22 سالہ میکسم اینٹس جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران ہلاک ہوئے۔

اسرائیلی انتظامیہ کے مطابق دو افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے ایک فوجی کو ’شدید زخمی حالت جبکہ دوسرے کو قدرِ کم زخم آئے ہیں۔

اسرائیلی دفاعی افواج نے مزید کہا کہ اسی واقعے میں ایک اور فوجی اہلکار کی ہلاکت کی اطلاعات بھی ہیں تاہم تصدیق کا عمل جاری ہے۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دھماکوں کی اطلاعات کے بعد تہران کے کچھ علاقوں میں بجلی بحال

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایرانی میڈیا کے مطابق منگل کی صبح تہران کے کچھ حصوں میں دھماکوں کے بعد بجلی منقطع ہو گئی تھی۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے بتایا کہ زیادہ تر علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے، جو ایک سب سٹیشن پر گرنے والے شراپنیلزکے باعث متاثر ہوئی تھی۔

یہ اطلاع ایسے وقت میں آئی ہے جب خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

لبنان پر اسرائیلی حملوں کی چند تازہ تصاویر

گزشتہ شب اسرائیل نے جنوبی لبنان پر نئے حملے کیے جس سے ہنوئیہ کے گاؤں اور بیروت میں عمارتیں متاثر اور تباہ ہو گئیں۔لبنان سے موصول ہونے والی چند تازہ تصاویر

AFP via Getty Images

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

AFP via Getty Images

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

AFP via Getty Images

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے جانے کی اطلاعات ہیں: آئی ڈی ایف

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے اسرائیل کی طرف داغے گئے میزائلوں کی شناخت کر لی ہے اور فضائی دفاع کے نظام فی الحال ’خطرے کو ناکام بنانے‘ کے لیے کام کر رہے ہیں۔

عوام کو خبردار کر دیا گیا ہے اور انھیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ’محفوظ مقامات‘ پر منتقل ہو جائیں اور مزید اطلاع تک وہیں رہیں۔

اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی لبنان میں ہلاکت کا جائزہ لیا جا رہا ہے: آئی ڈی ایف

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ دو ایسے واقعات کی تحقیقات کر رہی ہے جن میں اقوام متحدہ کے اہلکار ’ہلاک ہوئے۔‘

یہ بیان اس کے بعد آیا ہے کہ اقوام متحدہ نے بتایا کہ لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس کے تین امن اہلکار ملک کے جنوب میں ہلاک ہو گئے۔

اسرائیلی دفاعی افواج نے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ان واقعات کا مکمل جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ حالات کی وضاحت کی جا سکے اور یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ حزب اللہ کی سرگرمیوں کی وجہ سے ہوئے یا آئی ڈی ایف کی کارروائی کی وجہ سے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ واقعات ایسے علاقوں میں پیش آئے ہیں کہ جہاں اسرائیلی فوج کی جانب سے حملے کیے جا رہے ہیں۔ اس لیے یہ فرض نہیں کیا جانا چاہیے کہ جن واقعات میں اقوامِ متحدہ کے اہلکار متاثر ہوئے وہ آئی ڈی ایف کی وجہ سے ہوئے۔‘

کویت کی دبئی میں لنگر انداز خام تیل سے بھرے بحری جہاز پر ایرانی حملے کی تصدیق

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کویت کا کہنا ہے کہ ایران نے دبئی کی ایک بندرگاہ پر لنگر انداز اس کے ایک بڑے خام تیل کے ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔

کویت پٹرولیم کارپوریشن نے اس واقعے کو ’ایران کا ایک وحشیانہ فضائی حملہ‘ قرار دیا اور بتایا کہ جہاز کو کچھ نقصان پہنچا ہے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ٹینکر ’السلْمی‘ حملے کے وقت مکمل طور پر تیل سے بھرا ہوا تھا، جس کے باعث حملے کے فوراً بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی۔

دبئی حکام نے کہا کہ حملہ ایک ڈرون کے ذریعے کیا گیا اور چند گھنٹوں کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا۔انھوں نے بتایا کہ عملے کے تمام 24 افراد اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔

ابتدائی طور پر کویت نے حملے کے بعد ممکنہ تیل کے اخراج سے خبردار کیا تھا، تاہم برطانیہ کے میری ٹائم مانیٹر کے مطابق ’ماحولیاتی اثرات کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔‘

رائٹرز کے مطابق لائیڈز اور ٹینکر ٹریکرز کے ڈیٹا کے حوالے سے بتایا گیا کہ ’السلْمی‘ میں کویت اور سعودی عرب سے دو ملین بیرل تیل لدا ہوا تھا۔ لائیڈز کے مطابق اس کی منزل چین کا شہر چنگ ڈاؤ تھی۔

تاہم کویت نیوز ایجنسی کے مطابق کویتی فوج نے اس کا فضائی دفاعی نظام ’دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں‘ کا جواب دے رہا ہے۔کویت کے مطابق ایرانی فضائی حملے کا نشانہ بننے والے اس بڑے آئل ٹینکر میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس لگانے کا فیصلہ: فارس نیوز

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ایرانی ادارے فارس نیوز کے مطابق ایران میں ایک پارلیمانی کمیٹی نے آبنائے ہرمز میں گزرنے والی ٹریفک پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔

فارس نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق قومی سلامتی کمیشن کے ایک رکن نے اس منصوبے کی منظوری کی تصدیق کی ہے جس کے تحت امریکی اور اسرائیلی جہازوں کو آبنائے سے گزرنے سے بھی روکا جائے گا۔

مزید کہا گیا ہے کہ ان منصوبوں کے تحت وہ دیگر ممالک بھی پابندی کا سامنا کریں گے جنھوں نے ایران کے خلاف عائد پابندیوں میں حصہ لیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نئے ٹول نظام کا اعلان ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ایران اسے عمان کے ساتھ تعاون میں نافذ کرے گا۔

دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل عام طور پر اس اہم بحری گزرگاہ سے ہوتی ہے جو ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے۔

تاہم جنگ شروع ہونے کے بعد سے بحری معلومات فراہم کرنے والی کمپنی کپلر کے مطابق اس آبی گُزر گاہ سے آمدورفت میں تقریباً 95 فیصد کمی آ چکی ہے۔

صدر ٹرمپ چاہیں گے کہ جنگ کے اخراجات عرب ممالک ادا کریں: وائٹ ہاؤس

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وائٹ ہاؤس کی حالیہ پریس بریفنگ کے دوران ایسا اشارہ دیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عرب ممالک سے امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے کہ سکتے ہیں۔

ٹرمپ کی ترجمان کیرولین لیویٹ سے پیر کے روز پریس بریفنگ کے دوران یہ سوال کیا گیا کہ ’کیا عرب ممالک کو جنگ کے اخراجات ادا کرنے چاہئیں جیسا کہ سنہ 1990 کی خلیجی جنگ کے دوران امریکہ کے اتحادیوں نے واشنگٹن کی مداخلت کے لیے مالی معاونت کی تھی۔‘

لیویٹ نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ یہ ایک ایسی بات ہے جس کے لیے صدر انھیں کہنے میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’میں اس معاملے میں ان سے آگے نہیں بڑھوں گی، لیکن یقیناً یہ ایک ایسی بات ہے کہ جس کے بارے میں مُجھے علم ہے کہ اُن (امریکی صدر) کے ذہن میں ہے اور مجھے لگتا ہے کہ آپ اس بارے میں ان کی طرف سے مزید سنیں گے۔‘

ساتھ ہی امریکی وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کا اصرار ہے کہ امن مذاکرات جاری ہیں، اگرچہ ایرانی حکام اس سے انکار کرتے ہیں۔

کیرولین لیویٹ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکہ اب تک ایران میں 11000 سے زیادہ فوجی اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے۔

لیویٹ نے مزید یہ بھی کہا کہ ’صدر ٹرمپ نے ایران میں فوج بھیجنے کے امکان کو رد نہیں کیا، تاہم سفارت کاری اب بھی اُن کی پہلی ترجیح ہے۔‘

اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی افواج کو نکالا جائے: عباس عراقچی

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب سے کہا ہے کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی افواج کو نکالا جائے۔‘

ایکس پر ایک پوسٹ میں عراقچی نے کہا کہ ایران سعودی عرب کا ’احترام‘ کرتا ہے اور اسے ایک ’برادر ملک‘ سمجھتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایران کی کارروائیاں ’دشمن کے خلاف ہیں جو نہ عربوں کا احترام کرتے ہیں اور نہ ایرانیوں کا۔‘

عراقچی نے اپنے اس بیان کے ساتھ ایک تصویر بھی پوسٹ کی جو بظاہر ایک تباہ شدہ طیارے کی ہے جس پر امریکی فضائیہ کے نشانات موجود ہیں۔ انھوں نے لکھا کہ ’بس دیکھو ہم نے ان کے فضائی کمانڈ کے ساتھ کیا کیا۔‘

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ابھی تک اس واقعے پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ بی بی سی نے تبصرے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

امریکہ کے ساتھ ہمارے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے: ایرانی حکام کی پھر تردید

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل نیٹ ورک پر ایک پیغام پوسٹ کیا اور لکھا کہ ’ان اکتیس دنوں میں ہم نے امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی ہے۔‘

انھوں نے وضاحت کی کہ ’امریکہ کی طرف سے تجاویز کے کے ساتھ مذاکرات کی درخواست کی گئی ہے، جو پاکستان سمیت کچھ ثالثوں کے ذریعے ہمیں پہنچائی گئی ہیں۔‘

یہ پیغام وائٹ ہاؤس کے ترجمان اور ان سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بات کے بعد جاری کیا گیا۔

بقائی نے لکھا کہ ’ہمارا موقف بالکل واضح ہے۔ اب ایسی صورت حال میں جب امریکی فوجی جارحیت اور جارحیت شدت کے ساتھ جاری ہے، ہم ایرانی قوم کے دفاع کے لیے اپنی تمام تر کوششیں اور توانائیاں وقف کر رہے ہیں۔۔۔ ہم نے سابقہ ​​تجربات کو اپنے گوشت اور خون کے ساتھ محسوس کیا ہے، اور ہم سفارت کاری کی دھوکہ دہی کو نہیں بھولیں گے جو دو سال سے بھی کم عرصے میں کی گئی۔‘

یاد رہے کہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے آج کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اچھی طرح سے آگے بڑھ رہے ہیں اور جاری ہیں۔

لیویٹ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے حکام جن کے ساتھ امریکہ بات کر رہا ہے وہ پچھلے لیڈروں کے مقابلے میں ’پردے کے پیچھے زیادہ معقول‘ لگتے ہیں۔

عالمی میڈیا رپورٹس 

Popular Categories

spot_imgspot_img