ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے ’مکمل اور جامع حل‘ کے حوالے سے ایران سے ’تعمیری بات چیت‘ ہوئی ہے۔ اسی کے ساتھ ان کا کہنا تھا کہ ’ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات پر حملوں کو پانچ روز کے لیے مؤخر کر رہے ہیں۔‘ تاہم اس سے قبل اتوار کی شب امریکی صدر کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی گئی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے ’مکمل اور جامع حل‘ کے حوالے سے ’تعمیری بات چیت‘ ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ ’ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات پر، بلکہ ایران میں تمام حملوں کو پانچ روز کے لیے مؤخر کر رہے ہیں۔‘
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/116263563453969628
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا ٹرتھ سوشل پر جاری ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ دو دنوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے مکمل اور جامع حل کے حوالے سے نہایت مثبت، نتیجہ خیز اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے۔‘
اُن کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’اس تفصیلی اور تعمیری بات چیت کے انداز اور لہجے کی بنیاد پر جو اس ہفتے بھر جاری رہیں گی، میں نے محکمہ جنگ کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات پر تمام فوجی حملوں کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا جائے، جو جاری ملاقاتوں اور مذاکرات کی کامیابی سے مشروط ہے۔‘




