سری نگر،: قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے دہلی کے لال قلعہ کے نزدیک گزشتہ سال 10 نومبر کو ہوئے کار بم دھماکہ کیس کی جانچ کے تحت پیر کو کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔ حکام نے یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق، سری نگر، بارہمولہ، کپواڑہ اور کولگام اضلاع میں ان افراد سے منسلک احاطے کی تلاشی لی گئی، جنہیں دھماکے کے پیچھے مبینہ "دہشت گردی کے ماڈیول” سے جڑا مانا جارہا ہے۔ اس دھماکے میں 11 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے تھے۔
این آئی اے کے ایک ترجمان نے کہا، "جموں و کشمیر میں مختلف نو مقامات پر تلاشی مہم چلائی جا رہی ہے۔”
ذرائع کے مطابق بارہمولہ ضلع کے رفیع آباد کے رہنے والے ڈاکٹر بلال نصیر ملہ کے گھر کی بھی تلاشی لی گئی، جسے اس کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ کپواڑہ ضلع کے لنگیٹ علاقے میں بھی اس وقت چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
اس کے علاوہ سری نگر کے نوگام علاقے اور جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں کئی مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں کی گئیں۔
این آئی اے نے اس معاملے میں اب تک کئی ڈاکٹروں سمیت 11 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اس دھماکے کا مرکزی ملزم ڈاکٹر عمر النبی خود اس حملے میں مارا گیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال 10 نومبر کو قومی دارالحکومت میں لال قلعہ کے قریب ایک پرہجوم علاقے میں دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک کار میں دھماکہ ہوا تھا جس میں 11 افراد ہلاک اور 32 دیگر زخمی ہوئے تھے۔





