عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جنگ میں ملوث فریقین کو زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے اتوار کو خبردار کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل میں جوہری مقامات کے گرد حملوں کے ساتھ مشرق وسطیٰ کی جنگ ایک ’خطرناک مرحلے‘ میں داخل ہو گئی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے ایکس پر کہا، ’جوہری مقامات کو نشانہ بنانے والے حملے صحت عامہ اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے بڑھتے ہوئے خطرے کو جنم دیتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں تمام فریقین سے فوری طور پر زیادہ سے زیادہ فوجی تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کسی بھی ایسی کارروائی سے گریز کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں جو جوہری واقعات کو متحرک کر سکے۔‘

ہفتے کو ایک ایک ایرانی بیلسٹک میزائل نے جنوبی اسرائیلی قصبے دیمونا میں رہائشی عمارتوں کو چیر ڈالا اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔
ڈیمونا میں مشرق وسطیٰ کا بڑے جوہری ہتھیار رکھے جاتے ہیں، حالانکہ اسرائیل نے کبھی بھی جوہری ہتھیار رکھنے کا اعتراف نہیں کیا، اس بات پر اصرار کیا کہ یہ جگہ تحقیق کے لیے ہے۔
ایران نے کہا کہ یہ حملہ نطنز میں اس کی جوہری سائٹ پر پہلے حملے کے جواب میں کیا گیا تھا، جس میں زیر زمین سینٹری فیوجز ہیں جو ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے لیے یورینیم کو افزودہ کرنے کے لیے استعمال کیے گئے تھے اور جون 2025 کی جنگ میں اسے نقصان پہنچا تھا۔





