پیر, مارچ ۲, ۲۰۲۶
17.7 C
Srinagar

ایران جنگ: کویت میں ’کئی امریکی طیارے‘ گرے ہیں، عملہ محفوظ ہے: وزارت دفاع

کویت کی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ کئی امریکی جنگی طیارے پیر کی صبح کویت میں گر کر تباہ ہوئے، لیکن ان کا عملہ بچ گیا۔ وزارت دفاع کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ’کئی امریکی جنگی طیارے آج صبح گر کر تباہ ہو گئے۔ تمام عملے کے ارکان زندہ بچ گئے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ گرنے کی وجہ کی تحقیقات جاری ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’حکام نے فوری طور پر تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں شروع کر دیں، عملے کو بچایا اور انہیں طبی معائنہ اور علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا۔ ان کی حالت مستحکم ہے۔‘

کویتی حکام نے مزید کہا کہ انہوں نے براہ راست امریکی افواج کے ساتھ رابطہ کیا تاکہ حالات کا جائزہ لیا جائے اور مشترکہ تکنیکی اقدامات کیے جاسکیں۔ یہ بیان ایران کی سرکاری اسلامی جمہوریہ نیوز کی خبر کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا جس میں ایجنسی نے دعویٰ کیا ایک امریکی F-15 لڑاکا طیارہ کویت میں مار گرایا گیا تھا۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے جس ایک طیارہ گرتے دکھائی دے رہا ہے۔ادھر خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پیر کو کہا ہے کہ امریکی سفارت خانہ کے اوپر سیاہ دھواں اٹھتے دکھائی دے رہا ہے جبکہ سفارتی مشن نے لوگوں کو عمارت کے قریب نہ آنے کی ہدایت کی ہے۔ ایران کی طرف سے خلیجی خطے پر تیسرے روز بھی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اس سے قبل شہر میں سائرن بجے، جب ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں تازہ میزائل اور ڈرون حملے کیے۔اے پی نے کویت کی وزارت دفاع کے حوالے سے کہا کہ ‘کئی’ امریکی جنگی طیارے ملک میں گر کر تباہ ہو چکے ہیں، تمام عملہ بچ گیا۔

اے ایف پی کے مطابق سفارت خانے نے یہ اعلان نہیں کیا کہ اسے نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم ایک سکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے لوگوں کو دور رہنے کا مشورہ دیا۔ ’کویت پر میزائل اور یو اے وی حملوں کا مسلسل خطرہ موجود ہے۔ سفارت خانے نہ آئیں۔‘بیان میں مزید کہا گیا کہ ’امریکی سفارت خانے کا عملہ پناہ گاہوں میں موجود ہے۔‘وزارتِ داخلہ کویت کے مطابق صبح کے وقت ملک کو نشانہ بنانے والے متعدد ڈرون مار گرائے گئے۔

حکام کے مطابق اب تک ایران کے حملوں میں خلیج میں پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایک شخص کویت سٹی میں شامل ہے۔ایران کی جانب سے خطے کے ممالک پر جاری غیر معمولی بمباری نے فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ شہری ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا ہے، جن میں رہائشی عمارتیں، ہوٹل، ہوائی اڈے اور بندرگاہیں شامل ہیں۔

Popular Categories

spot_imgspot_img