تصویر

،کراچی میں پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے 10 افراد میں سے بعض کی اجتماعی نماز جنازہ اتوار کی شب ادا کر دی گئی

پاکستان کے زیر انتظام خطے گلگت بلتستان میں ایران کے رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کی امریکی، اسرائیلی حملے میں ہلاکت کے خلاف ہونے والے پُرتشدد مظاہروں میں ہلاکتوں کے بعد گلگت اور سکردو کے اضلاع میں آئندہ تین روز کے لیے کرفیو نافذ کرنے کے علاوہ فوج کو طلب کر لیا گیا ہے۔

یاد رہے اتوار کی علی الصبح ایران کی جانب سے سید علی خامنہ ای کے قتل کی تصدیق کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں اور پاکستان کے زیر انتظام خطے گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر احتجاجی جلسوں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

مظاہرین کی جانب سے پاکستان میں واقع امریکی قونصل خانوں، سفارتخانے اور دیگر مقامات کی جانب سے جانے کی کوشش کی گئی تاہم اس دوران پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سے ہونے والے جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 18 مظاہرین ہلاک ہوئے۔

حکومت پاکستان کی جانب سے سید علی خامنہ ای کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے مظاہرین سے پُرامن رہنے کی اپیلیں بھی کی گئیں جبکہ کئی شہروں میں دفعہ 144 (پانچ یا پانچ سے زائد افراد کے اجتماع کی ممانعت) کا نفاذ بھی کیا گیا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں اب تک کراچی میں 10، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تین جبکہ سکردو میں پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

استفسار کے باوجود گلگت میں حکام کی جانب سرکاری سطح پر تاحال یہ نہیں بتایا گیا کہ گذشتہ روز ہوئے پرتشدد مظاہروں میں کتنے افراد ہلاک ہوئے ہیں تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے گلگت میں سینیئر پولیس اور محکمہ صحت کے حکام نے کم از کم پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

گلگت میں شیعہ نمائندہ تنظیموں نے اس ضلع میں سات افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے ان افراد کی اجتماعی نماز جنازہ آج (دو مارچ) دن 11 بجے ادا کی جائے گی۔

ملک بھر میں ہونے والے ان پرتشدد مظاہروں میں پولیس اہلکاروں سمیت درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ پولیس نے مظاہرین کو امریکی قونصل خانوں، سفارتخانے اور دیگر اہم مقامات سے دور رکھنے کے لیے آنسو گیس، ربڑ کی گولیوں اور ہوائی فائرنگ کا استعمال کیا۔

تصویر

،تصویر کا کیپشنکراچی میں مشتعل مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں کو بھی نذر آتش کیا،تصویر کا ذریعہGetty Images

گلگت، سکردو میں کرفیو نافذ، فوج طلب

گلگت اور سکردو میں ہونے والی ہلاکتوں کے بعد اب گذشتہ رات سے دونوں اضلاع میں کرفیو نافذ ہے جبکہ فوج نے ان اضلاع کا اانتظام سنبھال لیا ہے۔تین روزہ کرفیو کا آغاز اتوار (دو مارچ) کی شب 12 بجے سے ہو چکا ہے اور یہ
چار مارچ کی نصف شب تک نافذ العمل رہے گا۔

گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا ہے کہ گلگت اور سکردو کے اضلاع میں دو سے چار مارچ کے دوران رات 12بجے سے دن 12 بجے تک کرفیو مکمل طور پر نافذ رہے گا تاہم (دن 12 بجے سے شام چار بجے تک) اس میں کچھ نرمی ہو گی اور پھر شام چار بجے سے رات 12 بجے تک دوبارہ کرفیو ہو گا۔

آئی جی گلگت بلتستان ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ فوج کو بھی طلب کر لیا گیا ہے اور آئندہ تین روز (دو سے چار مارچ) کے دوران سکردو اور گلگت کا نظم و نسق فوج کے حوالے ہو گا جبکہ پولیس، ایف سی، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے اپنے فرائض کی انجام دہی کرتے رہیں گے۔اتوار کے روز مشتعل مظاہرین نے گلگت میں اقوام متحدہ کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی گئی اور انھیں نذر آتش کیا گیا۔

گلگت اور سکردو میں متعدد مقامات پر مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں جبکہ ڈی ایس پی سکردو اور متعدد پولیس اہلکاروں سمیت متعدد مظاہرین زخمی بھی ہوئے۔ سکردو میں ایس پی ہاؤس، سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک اور اقوامِ متحدہ کے دفاتر پر توڑ پھوڑ کی گئی جبکہ گلگت میں یو این ڈی پی اور اقوامِ متحدہ کے دفاتر کو بھی نقصان پہنچایا گیا اور چند مقامات کو نذر آتش کیا گیا۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images،تصویر کا کیپشنسکردو میں احتجاجی مظاہرے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں شہری اکٹھے ہوئے

سکردو کے ریجنل ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر آصف رضا نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ پرتشدد مظاہروں کے بعد اُن کے ہسپتال میں مجموعی طور پر پانچ افراد کی میتیں لائی گئی ہیں جن میں سے ایک میت سکیورٹی ادارے کے اہلکار کی ہے۔

ڈاکٹر آصف رضا کا کہنا تھا کہ’صبح دس بجے کے بعد سے زخمی ہمارے پاس آنا شروع ہوگے تھے۔’ انھوں نے تصدیق کی کہ ہسپتال میں تقریباً 50 زخمی افراد کو بھی لایا گیا۔انھوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے چار افراد عام شہری جبکہ ایک شخص کا تعلق سکیورٹی ادارے سے ہے۔ ڈاکٹر آصف کے مطابق سکروں میں دو مریضوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہسپتال لائے گئے تمام افراد کو گولیاں لگنے کے زخم ہیں۔

گلگت سے صحافی وجاہت علی نے بتایا کہ اتوار کو شہر میں ایک بڑی ریلی نکالی گئی جو ابتدائی طور پر پرامن تھی اور مختلف سڑکوں پر مارچ کر رہی تھی۔ انھوں نے کہا کہ اس ریلی کا اختتام اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر ہونا تھا تاہم اس سے قبل ہی مشتعل مظاہرین نے اقوامِ متحدہ کے دفتر کا گھیراؤ کر لیا اور یہاں توڑ پھوڑ کیا۔

تصویر

،تصویر کا کیپشنسکردو میں اقوام متحدہ کی آفس کی ایک عمارت کے مختلف مقامات پر توڑ پھوڑ کی گئی اور انھیں نذر آتش کیا گیا،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے کہا کہ ‘پولیس نے مزاحمت کی لیکن آنسو گیس ختم ہونے کے بعد پولیس کو ہوائی فائرنگ کرنی پڑی۔’ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے اقوامِ متحدہ کے دفتر کو بچانے کی کوشش کی تو مظاہرین نے ایس پی دفتر اور سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک پر بھی حملہ کر دیا۔ ‘پولیس اور مظاہرین کے درمیان کئی گھنٹوں تک جھڑپیں جاری رہیں جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔’

گلگت بلتستان میں نگران حکومت کے ترجمان شبیر میر نے بی بی سی کو بتایا کہ چند ناخوشگوار واقعات پیش آئے، جو نہیں ہونے چاہییں تھے۔انھوں نے کہا کہ ‘احتجاج کرنا مظاہرین کا حق ہے لیکن توڑ پھوڑ اور اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچانا درست نہیں۔ حکومت نے تمام مقامات پر سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور مذہبی قیادت سے بات چیت جاری ہے تاکہ عوام کے جذبات کو ٹھنڈا کیا جا سکے۔’

کراچی میں امریکی قونصل خانے پر حملہ: 10 افراد ہلاک، 73 زخمی

تصویر
،تصویر کا کیپشنکراچی میں مشتعل مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کی عمارت میں توڑ پھوڑ کی

سید علی خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد صوبائی دارالحکومت کراچی میں مشتعل مظاہرین نے امریکی قونصل خانے میں توڑ پھوڑ کی اور اسے کے استقبالیہ کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی گئی۔

اس دوران پولیس کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 10 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے آٹھ افراد کو مردہ حالت میں ہسپتال لایا گیا جبکہ دو افراد کی دوران علاج موت ہوئی۔ کراچی کے دو ہسپتالوں میں نو شدید زخمی افراد تاحال زیر علاج ہیں جن میں سے تین کی حالت نازک ہے۔ سندھ حکومت کے مطابق ان ہنگاموں میں مجموعی طور پر پولیس اہلکاروں سمیت 73 افراد زخمی بھی ہوئے۔

کراچی میں مظاہرین کی پولیس کے جھڑپیں نمائش، نیٹی جیٹی اور پاپوش کے علاقوں میں ہوئیں۔اتوار کے روز بعض مشتعل مظاہرین مرکزی گیٹ توڑ کر کراچی میں واقع امریکی قونصل خانے کے احاطے میں داخل ہوئے اور وہاں استقبالیہ اور سکیورٹی اہلکاروں کے کمروں کے شیشے توڑے گئے۔

کراچی پولیس کے ڈی آئی جی ایسٹ زون کا کہنا ہے کہ کچھ مشتعل افراد قونصلیٹ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے تاہم پولیس نے موقع پر پہنچ کر حالات پر قابو پا لیا۔مشتعل مظاہرین کو قونصل خانے کی عمارت سے دور رکھنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا۔

پولیس نے مظاہرین سے مذاکرات کر کے اُنھیں قونصل خانے سے دُور بحریہ کالج کے مقام پر احتجاج کی پیشکش کی تھی تاہم مظاہرین کا اصرار ہے کہ وہ قونصل خانے کے باہر ہی احتجاج کریں گے۔

مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کی عمارت سے امریکی جھنڈا اُتارنے کا مطالبہ کیا ہے، تاہم پولیس کا کہنا تھا کہ یہ اُن کے بس کی بات نہیں ہے، جس پر مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے بات کر کے امریکی جھنڈا اُتارا جائے۔کشیدگی کے پیشِ نظر کراچی کے مختلف اضلاع کی پولیس کو کراچی طلب کیا گیا تھا۔

اسلام آباد میں مظاہرین کی امریکی سفارتخانے جانے کی کوشش، تین افراد ہلاک

تصویر

،تصویر کا کیپشناسلام آباد میں مظاہرین نے امریکی سفارتخانے جانے کی کوشش کی، اس دوران ہونے والی جھڑپوں میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں،تصویر کا ذریعہGetty Images

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کے پیش نظر اتوار کی صبح سے ہی ریڈ زون جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے تھے۔

اسلام آباد میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق آبپارہ چوک پر جمع ہونے والے مظاہرین نے امریکی سفارتخانے کی جانب مارچ کا اعلان کیا تھا جبکہ اس دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے مظاہرین

سے بات کر کے انھیں ریڈ زون نہ جانے کی تلقین کی۔

پولیس کے مطابق مظاہرین کو سفارتخانے سے دور رکھنے کے لیے سرینا چوک اور ریڈ زون بالخصوص ڈپلومیٹک انکلیو کی طرف جانے والے راستوں پر سکیورٹی کی تین پرتیں لگائی گئی تھیں۔

تصویر
،تصویر کا ذریعہGetty Images،تصویر کا کیپشناسلام آباد کے ریڈ زون کا ایک منظر

آبپارہ چوک سے روانہ ہونے والے مظاہرین جب آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں سے بچتے بچاتے جب فارن آفس کی جانب ڈپومیٹک انکلیو کے گیٹ نمبر دو کے سامنے پہنچے تو وہاں ہونے والے جھڑپوں میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے۔

حکام کے مطابق پولیس اہلکاروں سمیت لگ بھگ 18 زخمی بھی ہوئے۔ پولیس اور انتظامیہ کے مطابق چار افراد شدید زخمی ہیں جنھیں بلٹ انجریز ہیں۔

لاہور، پشاور میں بھی مظاہرے

تصویر
،تصویر کا ذریعہGetty Images،تصویر کا کیپشنلاہور میں مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کے مرکزی گیٹ کو نذر آتش کر دیا

لاہور میں بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق لاہور میں بھی مظاہرین امریکی قونصلیٹ کے باہر جمع ہوئے اور اس دوران پولیس کی جانب سے اُنھیں منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی گئی۔اس موقع پر مشتعل مظاہرین نے قونصل خانے کے مرکزی گیٹ کو نذر آتش کر دیا۔اسی طرح پشاور میں بھی سید علی خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف مظاہرہ ہوا اور پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

تاہم لاہور اور پشاور میں کسی شخص کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔پاکستان میں امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ ‘ہم کراچی اور لاہور میں امریکی قونصل خانوں کے باہر جاری مظاہروں کی اطلاعات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے اور پشاور میں قونصل خانہ کے باہر مزید مظاہروں کی اپیلیں بھی سامنے آئی ہیں۔’

سفارتخانے نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ‘ہم امریکی شہریوں کو پاکستان میں مشورہ دیتے ہیں کہ وہ مقامی خبروں پر نظر رکھیں اور ذاتی حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔’امریکی شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے حالات سے باخبر رہیں، ہجوم والی جگہوں سے گریز کریں اور دیگر دستاویزات کا خیال رکھیں۔