جموں: جموں و کشمیر حکومت نے اسمبلی میں تسلیم کیا ہے کہ حضرت بل حلقہ انتخاب کے ڈگپورہ اور فاک علاقوں میں غیر قانونی ریت نکالنے اور اس کی غیر مجاز ڈمپنگ کی متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں، جن پر مقامی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کئی گاڑیاں، کھدائی مشینیں اور ریت کے بڑے ڈھیر ضبط کیے ہیں۔یہ بات محکمہ کان کنی کی جانب سے رکن اسمبلی سلمان ساگر کے سوال کے تحریری جواب میں بتائی گئی۔
جواب کے مطابق ضلع ترقیاتی کمشنر سری نگر کی سربراہی میں قائم کثیر شعبہ جاتی ٹاسک فورس نے ڈگپورہ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں غیر قانونی سرگرمیوں کی نشاندہی کے بعد موقع پر چھاپے مارے، جن میں عمر ہیر ڈگپورہ میں غیر قانونی ریت ڈمپنگ کی سرگرمی واضح طور پر پائی گئی۔ حکومتی ریکارڈ کے مطابق اب تک 11 گاڑیاں، 5 کھدائی مشینیں اور تقریباً 934 میٹرک ٹن غیر قانونی ریت ضبط کی جا چکی ہے، جبکہ متعلقہ افراد پر 13.50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
حکومت نے اعتراف کیا کہ غیر قانونی کان کنی زرعی اراضی، آبی ذخائر اور عوامی تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، تاہم یہ بھی دعویٰ کیا کہ مسلسل نگرانی اور سخت کارروائی کے ذریعے ایسی سرگرمیوں پر حد درجہ قابو پایا جا رہا ہے۔
محکمہ کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران سری نگر ضلع میں مجموعی طور پر 22 مقدمات درج ہوئے، جن میں 2024 میں 10 اور 2025–26 میں 12 مقدمات شامل ہیں۔ اس دوران 326 سے زائد گاڑیاں اور مشینری ضبط جبکہ 68 لاکھ روپے سے زائد جرمانے وصول کیے گئے۔
حکومت نے یہ دعویٰ مسترد کیا کہ موجودہ نگرانی کا نظام ناکام ہو چکا ہے۔ محکمہ کان کنی نے کہا کہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے جدید ترین ’’جامع مائننگ سرویلنس سسٹم‘‘ قائم کیا گیا ہے جسے خلا سے نقشہ سازی کے قومی ادارے کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت 500 میٹر کے دائرے میں کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر خودکار الارم پیدا ہوتا ہے، جسے بیک وقت ضلع افسران، پولیس اور متعلقہ حکام تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ اب تک 144 الارم موصول ہو چکے ہیں جن پر فیلڈ رپورٹ طلب کی گئی ہے۔
محکمے نے مزید بتایا کہ معدنیات کی ترسیل کے لیے جی پی ایس اور مخصوص شناختی آلات کی تنصیب لازم قرار دی گئی ہے، جن میں سے 2400 سے زائد گاڑیاں نظام سے منسلک ہو چکی ہیں۔ اسی طرح ضلع سطح پر نگرانی کمیٹیاں، اڑان بھرنے والی خصوصی انفورسمنٹ اسکواڈ، اور موقع پر جرمانہ وصولی کے لیے پوائنٹ آف سیل مشینیں بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔
حکومت کے مطابق لائسنس صرف ان بلاکس کو دیے جاتے ہیں جہاں متعلقہ محکموں، بشمول زراعت اور جل شکتی، کی مکمل منظوری موجود ہوتی ہے، تاکہ ماحولیات اور عوامی مفاد کو نقصان نہ پہنچے۔
محکمہ نے یقین دلایا کہ مذکورہ علاقوں میں غیر قانونی کان کنی کے خلاف کارروائی مزید سخت کی جائے گی تاکہ آبادی، زرعی زمینوں اور دریائی نظام کو درپیش خطرات کم سے کم رہیں۔





