جمعرات, فروری ۱۹, ۲۰۲۶
15.3 C
Srinagar

کشمیر میں منشیات کی بڑھتی وبا، 70 ہزار نوجوان متاثر

جموں: جموں و کشمیر میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال نے نوجوان نسل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ قانون ساز اسمبلی میں اٹھائے گئے ایک سوال کے جواب میں حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ وادی کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس وبا کی لپیٹ میں ہے، جو سماجی اور صحت عامہ کے لیے نہایت تشویش ناک صورتحال پیدا کر رہی ہے۔سرکاری جواب کے مطابق 2022 میں محکمہ صحت اور محکمہ سماجی بہبود کی مشترکہ سروے رپورٹ نے انکشاف کیا کہ کشمیر کے دس اضلاع میں تقریباً 70 ہزار افراد منشیات کے استعمال میں مبتلا ہیں، جن میں سے50ہزار ہیروئن کا استعمال کر رہے ہیں۔

حکومت نے بتایا کہ ریاست بھر میں قائم منشیات مخالف مراکز، ضلع اسپتالوں، میڈیکل کالجوں اور دیگر اداروں میں اب تک تقریباً 69 ہزار متاثرہ نوجوانوں کو علاج اور بحالی کی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔ ان مراکز میں او پی ڈی و ایمرجنسی خدمات کے ساتھ ساتھ متبادل ادویات کے پروگرام بھی جاری ہیں، جہاں مریضوں کی رہنمائی، کونسلنگ اور بتدریج بحالی کا عمل انجام دیا جاتا ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق اس وقت مختلف سرکاری مراکز میں 11 ہزار 8 سو سے زائد مریض رجسٹرڈ ہیں جبکہ 3 سو 50 سے زیادہ نوجوان مستقل علاج حاصل کر رہے ہیں۔ مزید یہ کہ ذہنی صحت و منشیات کے خصوصی کلینک بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ متاثرین کو بروقت اور معیاری مدد فراہم کی جا سکے۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ اسکولوں اور کالجوں میں آگاہی مہمات، تربیتی پروگرام، کمیونٹی سطح پر شعور بیداری، اور شہری علاقوں کے ساتھ دیہی و کمزور طبقوں میں خصوصی مداخلت کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ محکمہ صحت، سماجی بہبود اور متعلقہ ایجنسیاں مشترکہ طور پر این سی او آر ڈی میٹنگز کے ذریعے نگرانی اور کارروائی کو مضبوط بنا رہی ہیں، جبکہ ہیلپ لائن 104 کو فوری رہنمائی اور مشاورت کے لیے فعال رکھا گیا ہے۔
سرکار نے مزید بتایا کہ میڈیکل کالجوں میں داخل مریضوں کے لیے مخصوص وارڈز، نئے منشیات مخالف مراکز، اور کمیونٹی بحالی پروگراموں کے تحت دیہی علاقوں میں خدمات کو مستحکم کیا جا رہا ہے۔ سرینگر کے معروف ذہنی صحت ادارے انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز کے تحت وسیع تربیتی و بحالی پروگرام بھی جاری ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ منشیات ایک سنجیدہ سماجی المیہ بن چکا ہے، تاہم اس کے تدارک، علاج، بحالی اور روک تھام کے لیے تمام ادارے مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام کر رہے ہیں اور کوشش ہے کہ نوجوان نسل کو اس زہر آلود راستے سے بچا کر ایک محفوظ سماجی ماحول فراہم کیا جائے۔

Popular Categories

spot_imgspot_img