پیر, فروری ۹, ۲۰۲۶
8.5 C
Srinagar

جموں و کشمیر میں 3540 میگاواٹ کے 32 پن بجلی منصوبے فعال

جموں،:جموں و کشمیر اسمبلی میں توانائی سے متعلق ایک اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ یونین ٹیریٹری میں اس وقت 32 فعال پن بجلی منصوبے 3540.15 میگاواٹ مجموعی صلاحیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان میں 13 یونین ٹریٹری سیکٹر کے منصوبے (1197 میگاواٹ)، 6 مرکزی سیکٹر کے پروجیکٹس (2250 میگاواٹ) اور 12 آئی پی پی یعنی نجی شعبے کے منصوبے (92.75 میگاواٹ) شامل ہیں۔
حکومت نے یہ بھی بتایا کہ آئندہ پانچ برسوں (2026–27 سے 2030–31) کے دوران جموں و کشمیر میں نئے منصوبوں اور جاری تعمیراتی کاموں کے ذریعے 3704.50 میگاواٹ اضافی بجلی پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اسمبلی میں پوچھے گئے ایک مخصوص سوال کے جواب میں حکومت نے تسلیم کیا کہ آنس-I (40 میگاواٹ) ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ واقعی سال 2011–12 میں ٹینڈر ہوا تھا۔ اس کے بعد پروجیکٹ نومبر 2012 میں الاٹ کیا گیا اور مارچ 2013 میں امپلیمنٹیشن ایگریمنٹ بھی طے پا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود منصوبہ اب تک پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا۔
محکمہ توانائی کے مطابق، منصوبے میں تاخیر کی بنیادی وجہ نجی پاور پروڈیوسر کی عدم کارکردگی ہے۔ اسی بنیاد پر کارپوریشن نے اگست 2025 میں آئی پی پی کو نوٹس آف ڈیفالٹ جاری کیا۔
جواب میں کمپنی نے 8 اکتوبر 2025 کو ڈی پی آر جمع کرائی، جبکہ 16 جنوری 2026 کو مالیاتی تجزیہ بھی پیش کیا، جس میں 40 سال کی لیولائزڈ ٹیرف قیمت 7.30 روپے فی یونٹ بتائی گئی، جو موجودہ توانائی مارکیٹ کے حساب سے منصوبے کو غیر قابلِ عمل بناتی ہے۔
آئی پی پی نے حکومت سے منصوبے سے خروج اور جمع شدہ پریمیم کی واپسی کی درخواست کی ہے، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ تاخیر کی وجہ بیرونی عوامل اور پالیسی پر مبنی رکاوٹیں تھیں۔ حکومت نے واضح کیا کہ معاملہ اس وقت جے کے ایس پی ڈی سی کے زیر غور ہے اور اس پر حتمی فیصلہ امپلیمنٹیشن ایگریمنٹ اور ہائیڈرو پاور پالیسی کے مطابق کیا جائے گا۔

Popular Categories

spot_imgspot_img