سری نگر،: کرائم برانچ جموں و کشمیر کی اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو ) نے شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (سکمز) صورہ سری نگر کے ایک سابق اسسٹنٹ پروفیسر کے خلاف جعلی طور پر سرکاری عہدہ حاصل کرنے کے لیے اپنی غیر ملکی شہریت کو چھپانے کے الزام میں چارج شیٹ دائر کی ہے۔
ونگ کے ایک ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ چارج شیٹ ایف آئی آر نمبر 76/2022 میں شری بٹ جڈی بل کے رہائشی سید عقیل احمد کی اہلیہ افشاں شبیر کے خلاف چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سری نگر کی عدالت میں داخل کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ ان الزامات سے متعلق ہے کہ افشاں شبیر جنہیں سال 2019 میں شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (سکمز) صورہ میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر تعینات کیا گیا تھا، در اصل برطانیہ کی شہری اور اوور سیز سیٹیزن آف انڈیا( او سی آئی) کارڈ ہولڈر ہیں، جس کی بنا پر وہ سرکاری ملازمت کے لئے نا اہل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ملزمہ نے اشتہار نمبر 4 آف 2015 کے تحت بطور ان سروس امید وار درخواست دی اور مختلف دستاویزات جمع کروائیں جن میں اسٹیٹ سبجیکٹ سر ٹیفکیٹ بھی شامل تھی جس میں انہوں نے خود کو ہندوستانی شہری اور جموں وکشمیر کی مستقل باشندہ ظاہر کیا، انہی بنیادوں پر ان کا انتخاب ہوا اور تقرری عمل میں آئی۔
بیان میں کہا گیا کہ دوران تفتیش سرکاری ریکارڈ جن میں ان کی سروس بک، ذاتی فائل، درخواست فارم اور سلیکشن کمیٹی کی کارروائی شامل ہے، ضبط کرکے جانچ کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ ملزمہ نے سرکاری ملازمت حاصل کرنے سے قبل ہی برطانوی شہریت حاصل کر لی تھی اور مبینہ طور پر اس حقیقت کو درخواست دیتے وقت اور بعد ازاں ملازمت کے دوران بھی چھپایا اور ملزمہ نے برطانوی پاسپورٹ اور او سی آئی کارڈ رکھنے کا اعتراف کیا۔
موصوف ترجمان نے بتایا کہ تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ شہریت کی حیثیت کے بارے میں غلط بیانی کے ذریعے ملزمہ نے دھوکہ دہی سے سرکاری عہدہ حاصل کیا جس سے انہیں ناجائز فائدہ جبکہ حکومت کو نقصان ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی خدمات حکومتی حکم نامہ نمبر 23 – سکمز آف 2022 مورخہ 20 اگست 2022 کے ذریعے ختم کی دی گئیں اور تفتیش کی تکیمل کے بعد معاملہ عدالتی فیصلے کے لئےمتعلقہ عدالت میں چارج شیٹ کی صورت میں پیش کر دیا گیا۔





