جمعرات, جنوری ۲۹, ۲۰۲۶
1.3 C
Srinagar

کشمیر کے نالہ سندھ میں یوریشین اوٹر دیکھا گیا،اس نسل کی موجودگی کی امیدیں ہوئیں جاگزیں

سری نگر:وسطی کشمیر کے سندھ نالہ سے یوریشین اوٹر کی تازہ فوٹو گرافک شہادت سامنے آنے کے بعد اس نایاب نیم آبی ممالیہ کی طرف ایک بار پھر توجہ مرکوز ہوگئی ہے اور اس دریافت نے وادی میں اس جانور کی موجودگی پر جاری بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے جہاں ایک طویل عرصے تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ یہ نسل معدوم ہوچکی ہے۔

یہ تصویر جموں و کشمیر کے محکمہ جنگلات کے رینج افسر میر فیضان انور نے اپنے عملے کے ہمراہ اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے علاقے کے معمول کی گشت کے دوران کھینچ لی۔ محکمہ جنگلات کے اعلیٰ حکام نے اس تصویر کو ایک اہم سائنسی ریکارڈ قرار دیا ہے جو اس امر کو مزید تقویت دیتا ہے کہ یوریشین اوٹر اب بھی کشمیر کے آبی نظام میں موجود ہے۔

چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ کشمیرعرفان رسول نے اس تصویر کو کشمیر سے یوریشین اوٹر کی پہلی براہ راست بصری دستاویز قرار دیا جو سندھ نالہ میں ریکارڈ کی گئی۔

انہوں نے کہا: ‘اس سے قبل کیمرہ ٹریپ ریکارڈز کے ذریعے بانڈی پورہ کے کشن گنگا اور جنوبی کشمیر کے رمبیارہ نالہ میں اوٹر کی موجودگی کی تصدیق ہوچکی تھی، سندھ نالہ سے حاصل ہونےو الی یہ نئی شہادت کشمیر میں اوٹر کی موجودگی کی تصدیق کو مزید مضبوط اور وسعت دیتی ہے، کشمیر کے دریا اور ندی نالے بے پناہ ماحولیاتی اہمیت کے حامل ہیں اور ان کا تحفط ناگزیر ہے’۔
میر فیضان انور کے مطابق انہوں نے 21 جنوری کو صبح تقریباً 10 بجے گاندربل ضلع میں واقع سندھ کینال میں اوٹر کو دیکھا جو ایک پن بجلی منصوبے کو پانی فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا: ‘میں نے اس علاقے میں چلتے ہوئے غیر معمولی نوعیت کی آوازیں سنیں ، میں نے فوراً پہچان لیا اور تصاویر لینے میں کامیاب رہا’۔واقعے کے فوراً بعد مقامی لوگ بھی جائے موقع پر جمع ہوگئے جن میں سے بعض نے ابتدا میں اس جانور کو مگر مچھ سمجھ لیا۔

میر فیضان نے کہا: ‘میں نے انہیں (مقامی لوگوں کو) بتایا کہ یہ اوٹر ہے، جسے مقامی زبان میں "ورد” کہا جاتا ہےاور یہ کہ اس کی موجودگی ایک خوش آئند علامت ہے، اوٹر صرف صاف پانی میں ہی زندہ رہتے ہیں اس لئے یہ پانی کے اچھے معیار کی بھی نشاندہی کرتے ہیں’۔وائلڈ لائف وارڈن شمالی کشمیر انتصار سہیل کا کہنا ہے کہ یوریشین اوٹر بتدریج وادی میں اپنے قدیم مساکن دوبارہ آباد کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا: ‘گذشتہ 5 سے 6 برسوں کے دوران کشمیر میں اوٹر کی اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں، ان کی موجودگی اچھی طرح ثابت ہے اور اس نسل کو کبھی بھی با ضابطہ طور پر معدوم قرار نہیں دیا گیا’۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: ‘معدومی ایک با قاعدہ سائنسی اعلان ہوتا ہے، ہمیشہ بالواسطہ شواہد موجود رہے ہیں’۔انتصار سہیل نے 1993 میں ڈل جھیل کے پچھلے پانیوں میں اوٹر دیکھنے کا اپنا مشاہدہ بھی یاد کیا۔

انہوں نے کہا کہ گرچہ وقت کے ساتھ براہ راست مشاہدات کم ہوتے گئےتاہم مچھلیوں کے بچے کھچے حصے اور مخصوص خوراکی نشانات جیسے بالواسطہ آثار جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے ہیر پورہ جیسے علاقوں میں دیکھے جاتے رہے۔
سہیل کے مطابق آلودگی اور شدید ماہی گیری کے دبائو کے باعث ڈل اور ولر جیسی بڑی جھیلوں میں اوٹر کی تعداد میں نمایاں کمی آئی تاہم کم متاثرہ بالائی علاقوں اور بلند مقامات پر واقع ندی نالوں جیسے سندھ، لدر، رمبیارہ اور جنوبی کشمیر کے بعض حصوں میں ان کی آبادی بر قرار رہی۔

انہوں نے کہا: ‘اوٹر فطری طور پر نہایت محتاط اور چھپ کر رہنے والے جانور ہیں ان کا کم نظر آنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ ختم ہوگئے ہیں’۔

اس تازہ پیش رفت سے قبل بھی ایسی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ نسل خطے میں ختم ہوچکی ہے۔ جون 2025 میں سری گفوارہ کے مقام پر دریائے لدر میں یوریشن اوٹر کے ایک نایاب مشاہدے نے سرخیاں بنائیں جب دیہاتیوں نے اسے مگر مچھ سمجھ لیا تھا بعد ازاں وائلڈ لائف حکام نے ویڈیو فوٹیج اور سی سی ٹی ریکارڈنگ کے ذریعے جانور کی شناخت کی تصدیق کی۔

عالمی سطح پر یوریشن اوٹر کو انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) نے ‘قریب الخطر” قرار دیا ہے۔ تاریخی طور پر یہ جانور کشمیر کے آبی ماحولیاتی نظام کا ایک اہم جز رہا ہے جس کے شواہد داچھی گام ، ڈل جھیل کو پانی فراہم کرنے والے نالوں، دریائے لدر اور رمبیالہ نالہ سے ملتے ہیں۔

شیر کشمیر زرعی یونیورسٹی کشمیر کے شعبہ وائلڈ لائف سائنسز کے پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ اوٹر کی آبادی کبھی سندھ اور ولر جھیل سمیت بڑے دریائی نظاموں میں وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا: ‘ان کی آبادی پہلے مضبوط تھی لیکن مسکن کی تباہی، کم رپورٹنگ اور تعداد میں کمی کے باعث مشاہدات نایاب ہوتے گئے’۔گرچہ حالیہ مشاہدات حوصلہ افزا ہیں تاہم موصوف پروفیسر نے آبادی کی بحالی سے متعلق کسی حتمی نتیجے سے گریز کی تلقین کی۔

انہوں نے کہا: ‘اوٹر کا دوبارہ نمودار ہونا خوش آئند ہے لیکن آبادی کے رجحانات اور مشاہدات کی تعداد جانچنے کے لئے منظم سائنسی مطالعات ناگزیر ہیں’۔
ان کا زور دے کر کہنا تھا کہ جن علاقوں میں اوٹر کی موجودگی ریکارڈ ہوئی ہے ان کے تحفظ کو ترجیح دی جانی چاہئے۔

موصوف پروفیسر کے مطابق مربوط حفاظتی اقدامات، مسکن کا بہتر انتظام اور طویل المدتی نگرانی ہی اس نسل کے استحکام اور بحالی کو یقینی بنا سکتی ہے۔

Popular Categories

spot_imgspot_img