جمعرات, جنوری ۲۹, ۲۰۲۶
1.3 C
Srinagar

رکاوٹ نہیں بلکہ حل کے ساتھ آگے بڑھنے کا وقت: مودی

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے تمام اراکینِ پارلیمنٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلانے میں تعاون کریں اور کہا کہ آج رکاوٹ ڈالنے کا نہیں، بلکہ مسائل کے حل کا وقت ہے، تاکہ ملک کی ترقی کے لیے مثبت اور فائدہ مند نتائج حاصل ہو سکیں۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اس وقت ہماری ترجیح رکاوٹ نہیں، بلکہ حل ہے۔ یہ حوصلے، فیصلے اور حل کا وقت ہے، اس لیے تمام اراکینِ پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ قوم کے لیے ضروری فیصلوں کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے میں اپنی توانائی استعمال کریں تاکہ ان کے مثبت نتائج ملک کو حاصل ہوں۔

وزیر اعظم نے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کے کل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دیے گئے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر جمہوریہ کا خطاب ملک کے 140 کروڑ عوام کے جذبات، کارکردگی کا محاسبہ اور بالخصوص نوجوانوں کی امنگوں کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ نہایت جامع اور رہنمائی پر مبنی خطاب تھا، جس میں صدر جمہوریہ نے ایوان کے سامنے کئی اہم نکات پیش کیے۔ سال 2026 اور اجلاس کا آغاز صدر جمہوریہ کی جانب سے تمام اراکینِ پارلیمنٹ سے کی گئی اپیل، ایک سربراہِ مملکت کی حیثیت سے ان کے جذبات کی ترجمانی تھی۔ یہ ایک نہایت اہم اجلاس ہے اور ملک کی ترقی کے آئندہ 25 برس کا دور شروع ہو چکا ہے، یہ اسی دور کا بجٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن ملک کی پہلی خاتون وزیر خزانہ ہیں، جو مسلسل نویں مرتبہ پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کرنے جا رہی ہیں۔ یہ اپنے آپ میں فخر کا لمحہ ہے اور ہندوستان پارلیمانی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہو رہا ہے۔

وزیر اعظم نے یورپی یونین کے ساتھ ہوئے معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے نوجوانوں کے روشن مستقبل کی جھلک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والا یہ ‘مدر آف آل ڈیل’ ملک کی صنعتوں اور مینوفیکچرنگ شعبے کے لیے بڑے بازار کھولتا ہے۔ یورپ کے 27 ممالک کے ساتھ ہونے والا یہ معاہدہ ماہی گیروں، کسانوں اور خدمات سے متعلق شعبے کے لیے ایک بڑا موقع ثابت ہوگا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بجٹ پر ملک کی توجہ فطری ہے اور حکومت کی کوشش کارکردگی، اصلاحات اور تبدیلی پر مرکوز رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک طویل مدتی مسائل سے نکل کر مستقل اور پائیدار حل کی جانب بڑھ چکا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جمہوریت میں پسند اور ناپسند فطری ہے، لیکن جمہوری فیصلوں کا احترام کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

Popular Categories

spot_imgspot_img