ممبئی، :مہاراشٹر میں طویل وقفے کے بعد آج 29 بلدیاتی اداروں انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔ اب تک راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت، آر ایس ایس رہنما سریش بھیاجی اور شیو سینا کی رہنما شائنا این سی سمیت کئی اہم شخصیات اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر چکی ہیں۔
موہن بھاگوت نے ووٹنگ کے آغاز کے ساتھ ہی ناگپور کے محل علاقے میں واقع بھاؤجی دپتاری این ایم سی اسکول کے پولنگ اسٹیشن پر ووٹ ڈالا۔ اسی طرح سریش بھیاجی نے ناگپور میں ووٹنگ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،“ہر شہری کو اپنے ووٹ کے حق کا استعمال کرنا چاہیے۔ وہ جسے چاہیں ووٹ دیں، یہ ان کی مرضی ہے، لیکن جو منتخب ہوں گے، ان کا فرض ہے کہ وہ عوام کی توقعات پر پورا اتریں۔”
شائنا این سی نے بی ایم سی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں سے کہا،“ماں ممبا دیوی اور شری سدھی ونایک کی کرپا سے ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ میں تمام ممبئی کے شہریوں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ ضرور ووٹ ڈالیں۔ جمہوریت کی خوبصورتی یہی ہے کہ یہ آپ کی آواز کو مضبوط بناتی ہے۔”
انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن اپنی شکست کے بہانے تلاش کر رہی ہے اور کہا کہ “ممبئی کا میئر مراٹھی اور ہندو ہوگا۔”
فلم اداکار اکشے کمار سمیت کئی دیگر فلمی شخصیات نے بھی اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا ہے۔
برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) میں ہر وارڈ سے صرف ایک رکن منتخب کیا جانا ہے، اس لیے یہاں ہر ووٹر کو صرف ایک ووٹ ڈالنا ہوگا۔ جبکہ ریاست کی دیگر 28 بلدیاتی اداروں میں کثیر رکنی وارڈ نظام نافذ ہے، جہاں ہر وارڈ میں تین سے پانچ نشستیں ہیں۔ اس کے تحت ووٹروں کو تین سے پانچ ووٹ ڈالنے ہوں گے۔ اس نظام کے باعث ووٹنگ کے عمل سے متعلق ووٹروں کو پہلے ہی آگاہ کیا گیا ہے تاکہ کسی قسم کی الجھن نہ ہو اور ووٹنگ پُرامن طریقے سے مکمل ہو سکے۔
ووٹنگ کا عمل آج صبح ساڑھے سات بجے شروع ہوا اور شام ساڑھے پانچ بجے تک جاری رہے گا۔ بلدیاتی انتخابات کے لیے ممبئی میں کل 10,231 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور 64,375 افسران و ملازمین کو انتخابی ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا ہے۔
مہاراشٹر کے چھترپتی سمبھاجی نگر، نوی ممبئی، وسئی-ویرار، کلیان-ڈومبیولی، کولہا پور، ناگپور، ممبئی، سولاپور، امراوتی، اکولا، ناسک، پمپری-چنچوڑ، پونے، الہاس نگر، تھانے، چندرپور، پربھنی، میرا-بھائندر، ناندیڑ-واگھالا، پنویل، بھونڈی-نظام پور، لاتور، مالیگاؤں، سانگلی-مرراج-کپواڑ، جلگاؤں، اہلیہ نگر، دھولے، جالنا اور اچلکرنجی میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ووٹنگ ہو رہی ہے۔
بی ایم سی انتخابات میں 227 نشستوں کے لیے تقریباً 1,700 امیدوار میدان میں ہیں۔ ملک کے سب سے امیر بلدیاتی ادارے پر قبضے کی اس لڑائی میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی مہایوتی اور ادھو–راج ٹھاکرے کے اتحاد کے درمیان سخت مقابلہ تصور کیا جا رہا ہے۔
کل 29 بلدیاتی اداروں کے 893 وارڈوں کی 2,869 نشستوں کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں 3.48 کروڑ ووٹر 15,931 امیدواروں کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ صرف بی ایم سی کی 227 نشستوں پر ہی 1,700 امیدوار مقابلے میں ہیں اور 74 ہزار کروڑ روپے کے سالانہ بجٹ والے اس ادارے پر تمام سیاسی جماعتوں کی نظریں مرکوز ہیں۔ شیو سینا کی تقسیم کے بعد یہ پہلا بی ایم سی انتخاب ہے، جس کے باعث اس کی سیاسی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران الزامات، اتحادوں کے بننے اور ٹوٹنے اور عوامی وعدوں نے ماحول کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔
یواین آئی




