منگل, جنوری ۱۳, ۲۰۲۶
8.2 C
Srinagar

جموں و کشمیر میں حالات قابو میں، دہشت گردوں کی بھرتی نہ ہونے کے برابر: آرمی چیف

نئی دہلی، : آرمی چیف جنرل اُپیندر دویدی نے پیر کے روز کہا کہ مغربی سرحد اور جموں و کشمیر میں مجموعی سکیورٹی صورتحال اگرچہ حساس ہے، تاہم مکمل طور پر قابو میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ مقامی سطح پر دہشت گردوں کی بھرتی تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔

قومی دارالحکومت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ 10 مئی کے بعد سے مجموعی سکیورٹی ماحول کو مؤثر انداز میں سنبھالا گیا ہے، جس میں سکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان قریبی تال میل اور سول انتظامیہ کی بھرپور معاونت شامل ہے۔

جنرل دویدی نے کہا، ’’2025 میں مجموعی طور پر 31 دہشت گرد مارے گئے، جن میں سے 65 فیصد کا تعلق پاکستان سے تھا۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ پہلگام حملے میں ملوث تینوں دہشت گردوں کو آپریشن مہادیو کے دوران ہلاک کر دیا گیا۔

آرمی چیف کے مطابق جموں و کشمیر میں سرگرم مقامی دہشت گردوں کی تعداد کم ہو کر سنگل ڈیجٹ تک آ گئی ہے، جبکہ دہشت گردوں کی بھرتی ’’تقریباً ختم‘‘ ہو چکی ہے اور 2025 میں صرف دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’یہ تمام اعداد و شمار جموں و کشمیر میں مثبت تبدیلی کی واضح علامت ہیں۔‘‘ آرمی چیف نے ترقیاتی سرگرمیوں، سیاحت کی بحالی اور شری امرناتھ یاترا کے پُرامن انعقاد کی طرف بھی اشارہ کیا۔

جنرل دویدی نے بتایا کہ اس سال شری امرناتھ یاترا میں چار لاکھ سے زائد عقیدت مندوں نے شرکت کی، جو گزشتہ پانچ سال کی اوسط سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’دہشت گردی سے سیاحت کی جانب منتقلی بتدریج حقیقت کا روپ دھار رہی ہے۔‘‘

جاری فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ آپریشن سندور تینوں افواج کے درمیان مؤثر تال میل کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا، ’’آپریشن سندور واضح سیاسی ہدایات اور کارروائی یا جواب دینے کی مکمل آزادی کے تحت سہ فریقی ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن تاحال جاری ہے اور خبردار کیا کہ مستقبل میں کسی بھی مہم جوئی کا سخت اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ آرمی چیف نے کہا، ’’آئندہ کسی بھی مہم جوئی کا مضبوطی سے جواب دیا جائے گا۔‘‘

جنرل دویدی نے سکیورٹی اور استحکام برقرار رکھنے میں مختلف اداروں کے کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج، مرکزی مسلح پولیس فورسز، انٹیلی جنس ایجنسیوں، ریاستی انتظامیہ اور شہری اداروں کے درمیان تال میل نہایت اہم رہا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’میں قومی سطح پر تمام شراکت داروں کے فعال کردار کا اعتراف کرتا ہوں، جن میں CAPFs، انٹیلی جنس ایجنسیاں، شہری ادارے، ریاستی انتظامیہ اور وزارتِ داخلہ اور ریلوے جیسی وزارتیں شامل ہیں۔‘‘

آرمی چیف کے مطابق خطے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مسلسل رابطہ، ہم آہنگی اور چوکسی آئندہ بھی کلیدی اہمیت کی حامل رہے گی۔

Popular Categories

spot_imgspot_img