سری نگر: بی جے پی کے جنرل سکریٹری (تنظیم) جموں وکشمیر اشوک کول نے جموں وکشمیر کو علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنےکی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بی جے پی کا موقف نہیں ہے، یہ کسی فرد کی ذاتی رائے ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر ہندوستان ایک اٹوٹ حصہ ہے اور بی جے پی اس خطے کو ایک اکائی کے طور پر دیکھتی ہے۔
موصوف جنرل سکریٹری نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کو یہاں نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب دینے کے دوران کیا۔
شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی منظوری منسوخ کئے جانے سے متعلق پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا: ‘بچوں کے مستقبل سے کھیلنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے’۔ان کا کہنا ہے کہ طلبا کو جموں وکشمیر کے مختلف میڈیکل کالجوں میں داخلے ملنے چاہئے۔
انہوں نے جموں میں صدر کی حالیہ پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں واضح طور پر کہا گیا کہ توجہ طلبا کے کیرئر کے تحفظ پر مرکوز ہے۔جموں کو کشمیر سے الگ کرنے کی خبروں سے متعلق پوچھے جانے پر مسٹر کول نے کہا: ‘ایسے خیالات بی جے پی کے موقف کی عکاسی نہیں کرتے ہیں، یہ کسی فرد کی ذاتی رائے ہوسکتی ہے لیکن آج کی تاریخ میں بی جے پی کا موقف واضح ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘جموں وکشمیر ہندستان کا اٹوٹ حصہ ہے، اور بی جے پی اس کو ایک اکائی کے طور پر دیکھتی ہے، جموں الگ اور کشمیرالگ نہیں ہے’۔میڈیکل کالج کی رجسٹریشن منسوخ ہونے کے بعد مذہبی شناخت کی بنیاد پر جموں وکشمیر کو نقصان پہنچنے کے الزامات کے بارے میں ان کا کہنا تھا: ‘یہ معاملہ میڈیکل کونسل کے دائرہ اختیار میں آتا ہےاور اس کا مذہب یا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے’۔موصوف جنرل سکریٹری نے کہا: ‘میڈیکل کونسل کا ایک قانون ہے یہ ضروری ہے کہ میڈیکل کالج میں پڑھنے والے طلبا کو تعلیم کے لئے مناسب ماحول میسر ہو،معائنے کے دوران سنگین خامیاں نظر آئیں ہیں، معائنہ ٹیموں نے مناسب بنیادی ڈھانچے کی کمی پائی ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘یہ نہ کسی مذہبی شخصیت کا کام ہے اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت کا کام ہے اس کا فیصلہ میڈیکل کونسل کرتی ہے’۔





