جمعہ, جنوری ۱۶, ۲۰۲۶
8.5 C
Srinagar

ای ڈی نے غیر قانونی کھانسی کے شربت معاملے میں تین ریاستوں میں 25 مقامات پر چھاپے مارے

نئی دہلی،: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ایک مبینہ طور پرغیر قانونی کھانسی کا شربت بنانے والی کمپنی کے منی لانڈرنگ معاملے میں جمعہ کو تین ریاستوں میں 25 مقامات پر چھاپے مارے۔

یہ چھاپے آج صبح 7:30 بجے شروع ہوئے اور اصل ملزم شبھم جیسوال، اس کے ساتھی آلوک سنگھ اور امت سنگھ اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ وشنو اگروال سے وابستہ مقامات پر کارروائی کی گئی۔ ای ڈی ان کَف سیرپ بنانے والوں کے ٹھکانوں پر بھی چھاپے مار رہی ہے جن پر دھوکے سے کَف سیرپ کی سپلائی کرنے اور اس کے غیر قانونی کاروبار کو فروغ دینے کا الزام ہے۔

یہ چھاپے اتر پردیش کے لکھنؤ، وارانسی، جونپور، سہارنپور، اور پڑوسی ریاست جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی اور گجرات کی راجدھانی احمد آباد میں مارے گئے۔ ذرائع کے مطابق ای ڈی کی ٹیمیں مختلف مقامات پر مالی لین دین، ڈیجیٹل ریکارڈ اور دیگر اہم شواہد کی جانچ کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ ای ڈی نے گزشتہ دو ماہ میں اتر پردیش کے مختلف اضلاع لکھنؤ، وارانسی، سون بھدر، سہارنپور اور غازی آباد میں 30 سے زائد ایف آئی آرز کی بنیاد پر یہ معاملہ درج کیا ہے۔ یہ معاملات کوڈین پر مبنی کھانسی کی شربت کے غیر قانونی ذخیرہ، ٹرانسپورٹ، تجارت اور سرحد پار اسمگلنگ سے متعلق ہیں۔ اس کالے کاروبار سے تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی آمدنی ہونے کا اندازہ ہے۔

ای ڈی حکام نے بتایا کہ اصل ملزم شبھم جیسوال فرار ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ دبئی میں ہے۔ اس کے والد بھولا پرساد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ اس معاملے میں اتر پردیش پولیس اب تک 32 افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔ اتر پردیش حکومت نے معاملے کی مربوط تفتیش کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) بھی تشکیل دی ہے۔

Popular Categories

spot_imgspot_img