جب کوئی سڑک حادثے میں مرتا ہے تو صرف ایک فرد نہیں جاتا ، اس کے ساتھ ایک دنیا اجڑتی ہے۔ جموں و کشمیر میں سال 2024 کے صرف دس مہینوں میں703 لوگ سڑک حادثات کا شکار ہو کر جان سے گئے، جب کہ6ہزار820 زخمی ہوئے۔ ہر دن کے ساتھ کوئی بچہ یتیم ہو رہا ہے، کوئی ماں روٹی کھاتے ہوئے رک کر رونے لگتی ہے، کوئی بہن بھائی کے کپڑوں کو دیکھ کر تکیے میں منہ چھپا لیتی ہے۔ یہ محض حادثات نہیں، یہ ایک مسلسل المیہ ہے، جو ہمارے آس پاس رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ جموں وکشمیر کے بیشتر علاقوں میں اب حادثے روزمرہ کی خبر بن چکے ہیں ۔ جیسے یہ معمول کی بات ہو۔ لوگ پلٹ کر پوچھتے بھی نہیں کہ کون گیا، کس گاڑی نے مارا، کون ذمہ دار تھا۔ کیا ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ مرنے والوں کے لیے صرف اعداد و شمار رہ گئے ہیں؟ کیا جموں وکشمیر کی سڑکیں اور شاہراہیں اب ایسی پٹریاں بن گئی ہیں جن پر صرف جنازے گزرتے ہیں؟
ان حادثات کے پیچھے کئی پہلو چھپے ہیں، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہر پہلو میں انسان کی اپنی غفلت اور بے حسی شامل ہے۔ سب سے پہلے، بے قابو رفتار۔ جو نوجوانوں کے لیے طاقت، انا اور مزہ بن چکی ہے۔ نابلد اور کم عمر بچے سکوٹی، بائیک یا گاڑی لے کر اس اعتماد سے نکلتے ہیں جیسے سڑک پران کا ہی راج ہے، اور قانون محض مذاق بن گیا ۔ والدین انہیں روکنے کے بجائے فخر محسوس کرتے ہیں کہ ’ہمارا بچہ ڈرائیو کر لیتا ہے۔‘پھر آتا ہے جموں وکشمیر (یوٹی)کا نظام ۔ ٹریفک پولیس جو اکثر صرف چالان بنانے، گاڑیاں ضبط کرنے، یا کسی کونے میں کھڑے ہو کر رشوت لینے تک محدود نظر آتی ہے۔ سڑکوں کی حالت خود کسی سانحے سے کم نہیں۔ تنگ، ٹوٹی پھوٹی، بغیر سگنل یا سائن بورڈ کے، اور اکثر اوور ٹیکنگ کے قابل نہیں۔ٹریفک پولیس کی کارروائی کا خلاصہ ایک لائن میں ہے: روکنا، چالان کاٹنا، گاڑی بند کرنا، اور پھر پیسے (جرمانہ )لے کر چھوڑ دینا۔ آخر کار یہ نظام شہریوں اور حکام کے درمیان اعتماد کے بجائے خوف اور بداعتمادی پیدا کرتا ہے۔اب ہمیں اپنی اجتماعی غفلت سے باہر نکلنا ہوگا۔ اب مزید وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں رہی۔ ہر گزرتا دن، ہر نئی خبر، ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ اگر ہم نے خود کو نہ بدلا تو یہ خونی سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔جموں وکشمیر کی حکومت کو سب سے پہلے سڑکوں کو قابلِ اعتماد اور محفوظ بنانا ہوگا۔
خستہ حال راستوں کی مرمت محض تعمیرات کا کام نہیں، بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ سے جڑا فریضہ ہے۔ تنگ سڑکیں، اندھیرے موڑ، اور بغیر حفاظتی اقدامات کے طویل شاہراہیں، موت کو دعوت دیتی ہیں۔ ان جگہوں کی نشاندہی کرکے وہاں نگرانی کا نظام قائم کیا جائے، رفتار پر نظر رکھنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جائے، اور ہر حادثے کے بعد صرف تفتیشی رپورٹ نہیں بلکہ عملی اقدام ہو۔ٹریفک پولیس کو بھی اپنی شناخت بدلنی ہوگی۔ صرف چالان کاٹنا یا گاڑیاں بند کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ عوام کے ساتھ تعلق بنائیں، انہیں پیا رومحبت سمجھائیں، اور قانون کی روح سے آشنا کریں۔ محبت اور فہم کی زبان قانون سے بھی زیادہ اثر رکھتی ہے۔ اگر شہری قانون شکنی کرتے ہیں تو یہ ان کی لاپرواہی ضرور ہے، لیکن ریاستی ادارے اگر صرف سزا کی زبان بولیں تو یہ عمل عدم اعتماد کو جنم دیتا ہے۔اور سب سے اہم کردار والدین کا ہے۔ بچے اگر کم عمر ہیں، اگر ان کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہے، اگر وہ سڑک کے قانون اور ذمہ داری کو نہیں سمجھتے، تو ان کے ہاتھ میں گاڑی کی چابی دینا صرف غیرذمہ داری نہیں بلکہ جرم ہے۔ والدین کا پیار اگر تربیت سے خالی ہو، تو وہ ایک دن پچھتاوے میں بدل جاتا ہے۔ جو بچہ آج سڑک پر کسی اور کی جان لیتا ہے، کل خود بھی اسی انجام کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہ صرف دوسروں کا مسئلہ نہیں ۔ یہ ہم سب کا ہے۔ہمیں خود سے سوال کرنا ہوگا، کیا ہم انتظار کریں گے کہ ہماری باری آئے؟ یا آج ہی یہ فیصلہ کریں گے کہ سڑک صرف سفر کے لیے ہے، جنازے کے لیے نہیں؟





