جمعرات, جولائی 30, 2026
31.1 C
Srinagar

عالمی تجارتی جنگ کا آغاز

امریکی صدر نے بھارت سمیت100 ممالک پر نئے ٹیرف کا اعلان کیا

مانیٹر نگ ڈیسک

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد ممالک سے امریکہ میں درآمد ہونے والی اشیا پر نئے ٹیرف (ٹیکس) کے نفاذ کا اعلان کیا ہے اور ان ممالک کی فہرست میں بھارت بھی شامل ہے، جس پر26 فیصد ٹیرف عائد ہو گا۔یہ نئی شرح تقریباً 100 ممالک کو متاثر کرے گی، جن میں سے60ممالک کو زیادہ درآمدی ٹیکس کا سامنا کرنا ہو گا۔عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز وائٹ ہاو¿س میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے اعلان کیا کہ تمام ممالک پر ’کم سے کم‘ 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا تاکہ امریکی معیشت کی ’بحالی میں مدد‘ حاصل کی جا سکے۔وائٹ ہاو¿س نے کہا ہے کہ امریکہ 5 اپریل سے10 فیصد ٹیرف وصول کرنا شروع کر دے گا جبکہ بعض ممالک کے لیے زیادہ ڈیوٹی کا نفاذ 9 اپریل سے ہو گا۔تاہم امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جو کمپنیاں اپنی اشیا امریکہ میں تیار کرتی ہیں ان پر کسی بھی قسم کا ٹیرف عائد نہیں کیا جائے گا۔ ’اگر آپ اپنی مصنوعات یہاں امریکہ میں بناتے ہیں تو آپ پر ٹیرف کا اطلاق نہیں ہو گا۔‘ٹرمپ اپنے خطاب کے دوران ایک بورڈ بھی ہاتھ میں تھامے ہوئے نظر آئے جس کے مطابق برطانیہ سے امریکہ میں درآمد کی جانے والی اشیا پر 10 فیصد جبکہ یورپی یونین کے ممالک سے درآمد کی جانے والی اشیا پر 20 فیصد ٹیرف نافذ کیا جائے گا۔اپنے خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکہ درآمد کی جانے والی غیرملکی کاروں پر بھی 25 فیصد ٹیرف عائد کر رہے ہیں۔فچ ریٹنگ ایجنسی میں امریکی اقتصادی تحقیق کے سربراہ اولو سونالو نے نئے ٹیرف کو نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی معیشت کے لیے ’گیم چینجر‘ قرار دیا۔انہوںنے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ’بہت سے ممالک ممکنہ طور پر کساد بازاری کا شکار ہوں گے/ ۔‘آئی ایم ایف کے ماہر اقتصادیات کین روگوف نے ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے عالمی تجارتی نظام پر ایٹم بم گرایا ہے۔‘امریکہ کی جانب سے نئے ٹیرف کے اعلان کے بعد ایشیا کے مختلف ممالک میں جمعرات کے روز آغاز پر ہی مارکیٹس مندی کا شکار نظر آئیں۔دوسری جانب امریکی سٹاک مارکیٹ صدر کی جانب سے اس اعلان تک تجارت کے لیے بند رہی، جسے ٹرمپ نے اپنے ملک کے لیے ’یوم آزادی‘ قرار دیا۔واضح رہے کہ کینیڈا اور میکسیکو کے حوالے سے امریکہ نے نئے ٹیرف کا اعلان نہیں کیا۔ وائٹ ہاو¿س کے مطابق وہ دونوں ممالک کو پچھلے ایگزیکٹو آرڈر میں طے شدہ فریم ورک کا استعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس سے قبل کینیڈا اور میکسیکو سے درآمد کی جانے والی اشیا پر 25 فیصد ٹیرف (ٹیکس) عائد کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم بعد میں کچھ چھوٹ کا اعلان بھی کیا تھا۔یورپی یونین کا اپنے مفادات کے تحفظ کا اعلان:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یورپی مصنوعات پر 20 فیصد ٹیکس عائد کرنے کے اعلان کے بعد ارسلا وان ڈیر لیئن نے کہا کہ یورپی یونین اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مزید جوابی اقدامات کی تیاری کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اسٹیل پر محصولات کے جواب میں جوابی اقدامات کے پہلے پیکیج کو پہلے ہی حتمی شکل دے رہے ہیں۔یورپی کمیشن کی صدر نے جمعرات کو ثمرقند، ازبکستان سے کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو ہم اب مزید جوابی اقدامات کی تیاری کر رہے ہیں، تاکہ ہمارے مفادات اور ہمارے کاروبار کا تحفظ کیا جا سکے۔ارسلا وان ڈیر لیئن ازبکستان میں یورپی یونین-وسطی ایشیا کے پہلے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گی۔انہوں نے کہا کہ ہم اس بات پر بھی گہری نظر رکھیں گے کہ ان محصولات کے بالواسطہ اثرات کیا ہوسکتے ہیں؟ کیونکہ ہم عالمی حد سے زیادہ گنجائش کو برداشت نہیں کرسکتے اور نہ ہی ہم اپنی مارکیٹ پر ڈمپنگ کو قبول کریں گے۔

 

Popular Categories

spot_imgspot_img